.

کرونا وائرس: دنیا میں ایک ارب سے زیادہ افراد گھروں سےامور نمٹارہے ہیں!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دنیا بھر میں کرونا وائرس کی وبا پھیلنے کے بعد پچاس سے زیادہ ممالک اور علاقوں میں ایک ارب سے زیادہ افراد اپنے گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں اور وہ وہیں سے اپنے دفتری یا کاروباری امور انجام دے رہے ہیں۔

بعض ممالک نے کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے لازمی لاک ڈاؤن کردیا ہے یا کرفیونافذ کردیا ہے جبکہ بعض ممالک کی حکومتوں نے اپنے شہریوں کو یہ مشورہ دیا ہے کہ وہ اس مہلک وائرس سے بچنے کے لیے گھروں ہی میں مقیم رہیں اور غیر ضروری نقل وحرکت سے پرہیز کریں۔

دنیا کے 34 ممالک اور علاقوں نے لازمی لاک ڈاؤن کے لیے اقدامات کیے ہیں اور عوام کو گھروں میں بند رہنے کی ہدایت کی ہے۔ ان ممالک کی آبادی قریباً 65 کروڑ 90 لاکھ بنتی ہے۔

مکمل لاک ڈاؤن کا نفاذ کرنے والے ممالک اور علاقوں میں فرانس ، اٹلی ، ارجنٹینا ، امریکا کی ریاست کیلی فورنیا ، عراق، روانڈا اور پاکستان کا صوبہ سندھ شامل ہیں۔یونان نے سوموار کی صبح سے لوگوں کو گھروں ہی میں رہنےکی ہدایت کی ہے۔کولمبیا نے منگل سے اور نیوزی لینڈ نے بدھ سے لازمی لاک ڈاؤن کا اعلان کیا ہے۔

تاہم لاک ڈاؤن کی صورت میں بھی ناگزیر ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے گھروں سے باہر نکلا جاسکتا ہے۔ان میں اشیائے ضروریہ اور ادویہ کی خریداری اور طبی معائنے کے لیے اسپتالوں میں جاناوغیرہ شامل ہے۔

ایران ، جرمنی اور برطانیہ سمیت چار ممالک نے اپنے شہریوں پر زوردیا ہے کہ وہ اپنی چار دیواری کے اندر ہی رہیں اور دوسرے لوگوں سے روابط منقطع کردیں۔ ان ممالک کی مجموعی آبادی 22 کروڑ 80 لاکھ ہے لیکن اس طرح کی غیر لازم سفارشات کے کوئی خاطر خواہ نتائج برآمد نہیں ہورہے ہیں۔

برطانیہ میں حکومت نے پارکوں اور بیچزپر اختتام ہفتہ پراکٹھا ہونے والے لوگوں کو انتباہ جاری کیا ہے اور کہا ہے ایسے اجتماعات پر پابندی کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں گے۔ایران میں گذشتہ ہفتے لاکھوں افراد نے نئے فارسی سال نوروز کی تقریبات میں شرکت کے لیے سفر کیا تھا۔

دس ممالک اور علاقوں نے رات کا کرفیو نافذ کردیا ہے اور لوگوں کے سفر پر پابندی عاید کردی ہے۔ ان ممالک کی آبادی 11 کروڑ 70 لاکھ کے لگ بھگ ہے۔ان ممالک میں بورکینا فاسو ، چلی ، فلپائن کا دارالحکومت منیلا ، سربیا اور موریتانیہ شامل ہیں۔ سعودی عرب میں سوموار کی شب سے کرفیو نافذ کیا جارہا ہے۔

بعض ممالک نے اپنے بڑے شہروں میں لوگوں کے داخلے اور خروج کو روکنے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔قزاقستان کے شہر المآتے ، بلغاریہ اور نور سلطان اورآذر بائیجان کے شہر باکو میں کرفیو نافذ کیا گیا ہے۔ان تمام شہروں کی مجموعی آبادی قریباً ایک کروڑ ہے۔