.

کیا کرونا سے متاثرہ شخص روزہ رکھے گا ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی وزارت صحت کے ترجمان ڈاکٹر محمد العبد العالی نے باور کرایا ہے کہ کرونا وائرس بھی بقیہ دیگر امراض کی طرح ہے۔ یہ انسانی جسم ، اس کے اعضاء اور ان کے کاموں کو متاثر کرتا ہے۔

ڈاکٹر محمد نے یہ بات منگل کے روز ایک پریس کانفرنس کے دوران العربیہ ڈاٹ نیٹ کے اس سوال کے جواب میں کہی جس میں پوچھا گیا تھا کہ "کیا کرونا وائرس سے متاثرہ شخص پر روزے کا اثر پڑتا ہے؟ "۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ "علاج کرنے والا طبیب ہی اس بات کا سب سے بہتر فیصلہ کر سکتا ہے کہ آیا متاثرہ شخص یا مریض روزہ رکھنے کی قدرت رکھتا ہے یا نہیں"۔

ڈاکٹر محمد کے مطابق "مریض کی قدرت کے علاوہ ایک اور عامل ہے جو اس مسئلے سے تعلق رکھتا ہے۔ وہ یہ کہ آیا مریض اپنے علاج کے پروگرام کے ساتھ روزہ رکھ سکتا ہے یا نہیں۔ اسی واسطے ہم ہمیشہ یہ ہدایات دیتے ہیں کہ مریض اپنے معالج طبیب سے رجوع کرے۔ معالج کی ہدایت مریض کے سلامتی اور صحت کے لیے سب سے بہتر ہیں۔ علاج کے سلسلے میں بعض ایسے امور ہو سکتے ہیں جن کے لیے شرعی فتوے کی ضرورت ہو۔ فتوے کے حصول کے لیے بھی ہمیں معتبر اور مستند اداروں اور شخصیات سے رجوع کرنا چاہیے"۔