.

زکاۃ کرونا وائرس کے غریب مریضوں کو دی جاسکتی ہے: مفتیِ اعظم دبئی

زکاۃ اسپتال ایسے کسی ادارے کو طبی آلات کی خریداری یا ملازمین کے اخراجات پورا کرنے کے لیے نہیں دی جاسکتی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دبئی کے مفتیِ اعظم اور شعبہ اسلامی امور اورخیرات میں دارالافتاء کے ڈائریکٹر احمد بن عبدالعزیز الحداد نے کہا ہے کہ ’’مسلمان اپنی زکاۃ (زکوٰۃ) کرونا وائرس کے غریب اور نادار مریضوں کو دے سکتے ہیں اور لینے والے زکاۃ کی رقم کو اپنے علاج اور دوسرے ضروریات پر صرف کرسکتے ہیں۔

مفتیِ اعظم نے وضاحت کی ہے کہ زکاۃ کی رقم اسپتال ایسے کسی ادارے کو طبی آلات کی خریداری یا ملازمین کے اخراجات پورا کرنے کے لیے نہیں دی جاسکتی ہے کیونکہ زکاۃ مستحق افراد کا حق ہے اور ان ہی کے لیےمختص ہے۔

البتہ ،انھوں نے کہا کہ اسپتالوں کی صدقے کے ذریعے امداد کی جاسکتی ہے۔مسلمانوں پر صدقہ وخیرات دینے پر کوئی پابندی عاید نہیں ہے اور وہ ایسی رقم کو کسی کو بھی دے سکتے ہیں۔

زکاۃ اسلام کا کلمہ ،نماز اور روزے کے بعد چوتھا رکن ہے۔مسلمان اللہ وحدہ لا شریک پر ایمان لاتے اور خاتم النبیین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا رسول مانتے ہیں۔وہ دن میں پانچ مرتبہ فرض نماز ادا کرنے کے پابند ہیں۔ ان پر سال میں ایک ماہ ،رمضان المبارک کے روزے فرض ہیں۔ہر صاحب نصاب مسلمان پر سال میں ایک مرتبہ زکاۃ اور صاحب استطاعت پر زندگی میں ایک مرتبہ حج فرض کیا گیا ہے۔

زکاۃ کے ذریعے ناداروں ، غریبوں ، مسکینوں ، مسافروں اور غلاموں کی مدد کی جاتی ہے اور اسلامی معاشرے میں غُربت کے خلاف جنگ کا یہ ایک اہم ذریعہ ہے۔زکاۃ کی رقم سے معاشرے کے مقہور طبقات کو دوسروں کے شانہ بشانہ لایا جایا سکتا ہے اور ان کی ضروریات کو پورا کیا جاسکتا ہے۔

زکاۃ کا نصاب 87۰48 گرام (ساڑھے سات تولہ) سونا یا 612۰36 گرام (ساڑھے باون تولہ) چاندی کے برابر مالیت کے زیورات یا نقدی مقرر ہے۔اس کا انحصار سونے اور چاندی کی موجودہ قیمتوں پر ہوتا ہے۔
ایک مسلمان کے پاس زکاۃ کے نصاب کے برابر مالیت کے زیورات یا نقدی پورا ایک سال موجود رہنی چاہیے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی یوں وضاحت فرمائی ہے:’’اگر مال( رقوم) پر ایک سال پورا نہیں ہوتا ہے توان پر کوئی زکاۃ نہیں ہے۔‘‘ اس سے مراد ایک ہجری سال یعنی قمری سال کے بارہ مہینے(354 دن) ہیں۔

ہر صاحب نصاب اپنے مال پر ایک سال پورا ہونے پر کل مالیت کا ڈھائی فی صد زکاۃ دینے کا پابند ہے۔مفتیِ اعظم دبئی نے کہا کہ اگر کوئی مسلمان کرونا وائرس کا مریض ہے اور غریب ہے تو اس کو زکاۃ کی رقم ادا کی جاسکتی ہے۔

انھوں نے اس کی مزید وضاحت یہ کی ہے کہ اگر کوئی غریب آدمی ہے اور وہ کرونا وائرس کی وجہ سے اپنی ملازمت کھو بیٹھا ہے اور اس کے پاس کوئی جمع پونجی یا متبادل آمدن کا ذریعہ نہیں ہے تو وہ زکاۃ کا مستحق ہے۔خواہ وہ کسی زکاۃ دینے والے مسلمان کا عزیز ، رشتے دار ہے یا ہمسایہ ہے یا وہ اس کو جانتا ہے یا نہیں بھی جانتا ہے تو وہ اس کو زکاۃ دے سکتا ہے۔انھوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اگر رشتے دار زکاۃ کے کسی مستحق فرد کے معیار پر پورااُترتے ہیں تو وہ کسی دوسرے فرد کی نسبت ایک صاحب نصاب رشتے دار کی زکاۃ کے زیادہ مستحق ہیں۔