.

العربیہ نیوزنیٹ ورک کی نشریات کا نئی ٹیکنالوجی اور نئے ڈیزائن کے ساتھ آغازِ نو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عرب دنیا کے سب سے بڑے میڈیا برانڈ العربیہ نیوز نیٹ ورک نے اپنے ٹیلی ویژن اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو نئی ٹیکنالوجی ، اسٹوڈیوز اور ڈیزائن سے مزیّن کیا ہے اور ان جمعہ سے نئی جدتوں کے ساتھ ایک نئی آب وتاب اور چکا چوند سے نشریات پیش کرنا شروع کردی ہیں۔

العربیہ نیوز چینل ہفتے میں سات دن اور 24 گھنٹے خبریں اور حالاتِ حاضرہ کے پروگرام پیش کرتا ہے۔یہ مشرقِ اوسط اور شمالی افریقا (مینا) کے خطے میں واقع بہت سب ممالک میں پہلے نمبر کا نیوزچینل ہے اور تین کروڑ 60 لاکھ ناظرین اس کی براہ راست نشریات دیکھتے ہیں۔اس نیٹ ورک نے سوشل اور ڈیجیٹل میڈیا پلیٹ فارمز پر بھی بڑی تیزی سے ترقی کی ہے۔العربیہ کی اردو ، انگریزی ، عربی اور فارسی زبانوں میں الگ الگ ویب گاہیں ہیں اور ہر ماہ دو کروڑ سے زیادہ قارئین اور ناظرین اس کے آٹھ کروڑ 80 لاکھ سے زیادہ ویب صفحات ملاحظہ کرتے ہیں۔

العربیہ میڈیا نیٹ ورک کے جنرل مینجر ممدوح المہینی کا کہنا ہے کہ ’’ہم نئے اسٹوڈیوز نئے ڈیزائن کے ساتھ شروع کررہے ہیں اور نئی ٹیکنالوجی سے استفادہ کررہے ہیں۔ہم اپنے ناظرین کو اپنی ٹیلی ویژن اسکرینوں اور سوشل اور ڈیجیٹل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے نئی نسل کی ٹیکنالوجی سے متعارف کرارہے ہیں۔‘‘

انھوں نے کہا کہ ’’نیٹ ورک اپنے معاصرین کے مقابلے میں جدت اور اپنے مواد کو جاذب نظر بنانے میں ہمیشہ آگے رہا ہے۔‘‘

عالمی کمپنیوں سے شراکت داری

دبئی کے میڈیا سٹی میں واقع العربیہ کے دفاتر میں نئے نشریاتی اسٹوڈیوز کو نئی ٹیکنالوجی اور سیٹ ڈیزائن سے مزیّن کیا گیا ہے۔

العربیہ نے نیویارک میں قائم کلک سپرنگ کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے سیٹ ڈیزائن بنایا ہے۔نئے اسٹوڈیوز میں روبوٹک بلیک کیم کیمرے نصب کیے گئے ہیں جس سے ناظرین نہ صرف اینکروں اور میزبانوں کو دیکھ سکیں گے بلکہ انھیں نیوز روم میں کام کرنے والے لکھاری ، رپورٹر اور ایڈیٹر حضرات بھی کام کرتے نظر آئیں گے۔

العربیہ نے راس ویڈیو کے ساتھ اشتراک سے کیمبوٹ کیمرے نصب کیے ہیں۔اس سے ناظرین اسٹوڈیو منزل کے مختلف حصے ملاحظہ کرسکیں گے۔

العربیہ خبروں اور حالات حاضرہ کے پروگراموں میں سکرین کو معلومات افزا اور پرکشش بنانے کے لیے کئی ایک نئی جدتیں متعارف کررہا ہے۔براہ راست نشریات میں گرافکس اور ایک نیا منفرد عربی فونٹ متعارف کرایا جارہا ہے۔ یہ چینل کی 2003ء میں نشریات کے آغاز کے بعد پہلا فونٹ ہے۔

العربیہ کے شعبہ تخلیق کے سربراہ فادی رادی بتاتے ہیں:'' ہم نے 17 سال قبل العربیہ کا اپنا ایک فونٹ خود بنایا تھا،یہ اسکرین پر استعمال کیا جانے والا پہلا فونٹ تھا۔پھر یہ اتنا مقبول ہوا کہ یہ دنیا بھر میں ہر کہیں استعمال ہوتا رہا ہے۔ بہت سے ڈیزائنر اور بڑے برانڈ اس کو استعمال کررہے ہیں۔''

العربیہ کے عملہ نے کئی ماہ قبل تزئین نو کا کام شروع کردیا تھا لیکن کرونا وائرس کی وبا دنیا بھر میں پھیلنے کے بعد نئے اسٹوڈیوز کی تیاری اور استعمال میں چند ہفتے کی تاخیر ہوئی ہے کیونکہ دفاتر میں عملہ محدود کردیا گیا تھا۔

العربیہ کے جنرل مینجر ممدوح المہینی بتاتے ہیں کہ '' ہمیں اپنا کچھ طریق کار تبدیل کرنا پڑا تھا،اسٹوڈیوز میں صرف 20 فی صد عملہ موجود ہوتا ہے اور باقی پوری ٹیم گھروں سے کام کررہی ہے۔ہم مشکل حالات کا سامنا کرنے کے بعد العربیہ کے نام سے ہم آہنگ کچھ کرنے جارہے ہیں اور العربیہ کے ناظرین کو وہ کچھ پیش کررہے ہیں جس کی وہ اپنے اس نیٹ ورک سے توقع کرتے ہیں۔''