.

سعودی عرب : نوعمری میں سنگین جرائم کے مرتکب افراد کی سزائے موت کالعدم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب نے 18 سال سے کم عمری میں سنگین جرائم کے مرتکب افراد کی سزائے موت ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔العربیہ کے ذرائع کے مطابق شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے اس ضمن میں ایک شاہی فرمان جاری کردیا ہے۔

سعودی عرب میں گذشتہ کچھ عرصہ سے عدالتی اصلاحات کی جارہی ہیں اور ایک ہفتے میں یہ دوسری بڑی سزا ہے جو ختم کی جارہی ہے۔گذشتہ ہفتے سعودی عرب کے جنرل کمیشن برائے سپریم کورٹ نے تعزیر کے مقدمات میں کوڑوں کی سزائیں ختم کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔اب تعزیری جرائم کے مرتکب افراد کو قید یا جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جائیں گی لیکن انھیں کوڑے نہیں مارے جائیں گے۔

سعودی عرب کے انسانی حقوق کمیشن کے صدر عواد العواد نے نئے شاہی فرمان کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ’’ اگر کسی فرد (مرد یا عورت) نے نوعمری میں کسی سنگین جرم کا ارتکاب کیا تھا اور اس کو سزائے موت سنائی گئی تھی تو اب اس سزا پر عمل درآمد نہیں ہوگا اور اس کا سرقلم نہیں کیا جائے گا۔اس کے بجائے اس کو دس سال تک قید کی سزا سنائی جائے گی۔‘‘

تعزیر کے زمرے میں ایسے جرائم آتے ہیں جن کی شریعت اسلامی میں سزا(حد) مقرر نہیں اور قاضی (جج) کو یہ اختیار ہوتا ہے کہ وہ اجتہاد کے ذریعے ان کی سزاؤں کا تعیّن کرسکتا ہے۔

سعودی محقق فہد الشوقیران نے عدالتی اصلاحات کے بارے میں العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکام سعودی عرب کے ویژن 2030ء کے مطابق تعزیرکے تصور اور اس کی سزاؤں میں اصلاحات کررہے ہیں۔کوڑے مارنے کی سزا کاخاتمہ اور تعزیر کے تصور پر نظرثانی کا بہت سے سعودیوں نے خیر مقدم کیا ہے۔

ایک سعودی وکیل حامد حراسانی کا کہنا ہے کہ مملکت میں کوڑے مارنے کی سزا کا یکسانیت کے ساتھ نفاذ نہیں کیا جارہا تھا،مختلف عدالتیں کوڑوں کی مختلف سزائیں دے رہی تھیں اور بعض اوقات تو بہت سخت سزا سنائی جاتی تھی اور ان پر سختی سے عمل درآمد کیا جاتا تھا۔

سعودی عرب کے انسانی حقوق کمیشن نے کوڑوں کی سزا کے خاتمے کا خیرمقدم کیا ہے اور کہا ہے یہ ایک اہم عدالتی اصلاح ہے جس کا شاہ سلمان اور ولی عہد شہزادہ محمد کی براہِ راست نگرانی میں نفاذ کیا گیا ہے۔

عواد العواد کا کہنا ہے کہ ’’ یہ اصلاح سعودی عرب میں انسانی حقوق کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کی جانب ایک تاریخی قدم ہے۔یہ گذشتہ پانچ سال کے دوران میں کی جانے والی انسانی حقوق کی ستر اصلاحات میں سے ایک ہے۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ اس اصلاح سے سعودی عرب میں مقیم شہریوں اور مکینوں کی زندگیوں پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے،خواتین ، ورکروں ، نوجوانوں اور ضعیف العمر افراد سمیت سب کا معیار زندگی بلند ہوگا۔

ان کے بہ قول مملکت میں ایک عرصے سے اس بات پر اتفاق رائے پایا جارہا تھا کہ کوڑوں کی سزا موجودہ صورت حال سے کوئی مطابقت نہیں رکھتی ہے۔بہت سے مقدمات میں تو جج صاحبان خود ہی قانون کی تشریح کرتے ہوئے ملزموں کو کوڑے مارنے کی سزا سنارہے تھے۔

فہدالشوقیران کا کہنا تھا کہ بہت سے کیسوں میں قید اور جرمانہ یا دونوں سزائیں ہی مناسب ہیں اور اس کا انحصار جرم کی نوعیت پرہے۔اس سے پہلے اگر کسی کو کوڑوں کی سزا دی جاتی تھی تو اس کے نفاذ میں سختی نہیں کی جانی چاہیے تھی لیکن اس کا بھی انحصار اس بات پر ہوتا تھا کہ سزا پر عمل درآمد کون کررہا ہے۔