.

کرونا کے بیچ رمضان میں صحت بخش غذائیت کیسے حاصل کی جائے ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دنیا بھر میں کرونا وائرس نے معمولات زندگی کو درہم برہم کر دیا ہے۔ اس صورت حال میں رواں سال رمضان مبارک کا مہینہ گذشتہ برسوں کے مقابلے میں قدرے مختلف ہے۔ اس کا سبب کرونا کی روک تھام کے لیے دنیا کے بیشتر ممالک میں عائد لاک ڈاؤن اور قرنطینہ ہے۔

گھروں میں گوشہ نشینی کے دوران ہم وزن کے بڑھنے سے اجتناب کرتے ہوئے رمضان مبارک میں مناسب غذا کو کس طرح برقرار رکھ سکتے ہیں ؟

اس سلسلے میں العربیہ ڈاٹ نیٹ نے ڈاکٹر مجدی نزیہ سے خصوصی گفتگو کی۔ ڈاکٹر مجدی مصر میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف نیوٹریشن کے ڈپارٹمنٹ آف فوڈ ایجوکیشن یونٹ کے سربراہ ہیں۔ انہوں نے باور کرایا کہ رمضان کے مہینے میں جسمانی صحت برقرار رکھنے اور وزن کو بڑھنے سے روکنے کے لیے نقل و حرکت نہایت ضروری ہے۔

ڈاکٹر مجدی کے مطابق گھر میں طبی قید یا گوشہ نشینی ،،، نقل و حرکت کی راہ میں رکاوٹ نہیں ہے۔ گھر کے کاموں میں مدد اور معاونت کے ذریعے جسم کی سرگرمی کو برقرار رکھا جا سکتا ہے اور صحت بخش غذائی نظام کو اپنا کر وزن میں اضافے سے بچا جا سکتا ہے۔ گھر میں ورزشن کے لیے کوئی وقت مقرر کریں۔ ان میں زیادہ تر ورزشوں کے لیے بڑی جگہ یا خصوصی ساز و سامان کی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔

ڈاکٹر مجدی کے مطابق رمضان مبارک میں غذا کے حوالے سے چند باتوں کا خیال رکھا جانا بہت ضروری ہے۔

پہلا : روزے دار کو افطار کا آغاز پانی کے علاوہ دو قسم کے مائع مواد سے کرنا چاہیے۔ ان میں میٹھا شربت جو ترجیحا پھلوں کا قدرتی جوس ہو اور یا پھر کھجور کے ساتھ گرم سُوپ لیا جائے۔ دوسرا : اس کے آدھے گھنٹے بعد مرکزی افطار کیا جائے۔ یہ جسم میں اہم کاموں کی انجام دہی میں معاون غذاؤں پر مشتمل ہونا چاہیے۔ ان میں نشاستہ اور گلوکوز شامل ہے۔ نشاستہ کو گلوکوز سے زیادہ محفوظ شمار کیا جاتا ہے۔ چاول، مکرونی اور روٹی کی مختلف اقسام یہ سب نشاستہ میں شامل ہیں۔ ساتھ ہی کسی ایک نوعیت کی پروٹین بھی لینا چاہیے جو خلیوں کے بننے میں مددگار ہو۔ اس میں گوشت، مرغی، انڈا، ترکاری اور مچھلی شامل ہے۔

تیسرا : رنگین سبزیوں کے حصول کی ضرورت بھی اہم ہے۔ سلاد میں کم از کم 5 مختلف رنگ نظر آنے چاہیئں۔ سبزیاں انسانی جسم میں اہم کارروائیوں کی سلامتی میں اپنا کردار ادا کرتی ہیں۔

چوتھا : افطار سے لے کر سحری تک کے درمیانی وقفے میں کسی بھی قسم کا تازہ پھل کھایا جا سکتا ہے جس کا وزن 150 گرام سے زیادہ نہ ہو ... یا پھر میٹھے کا چھوٹا سا ٹکرا لیا جا سکتا ہے جس کا حجم 3x3 سینٹی میٹر سے زیادہ نہ ہو۔ افطار سے سحری کے درمیان پانی کا زیادہ سے زیادہ استعمال کیا جائے۔

پانچواں : سحری میں بھی نشاستہ کا استعمال کیا جانا چاہیے۔ ان میں ترکاری بہتر ہے۔ اس موقع پر میٹھی چیزوں سے مکمل اجتناب برتا جائے۔ سحری میں چائے یا کافی سے دُور رہا جائے۔

ڈاکٹر مجدی نے اپنی گفتگو کے اختتام پر زور دیا کہ رمضان میں رات کی نیند پوری کرنا چاہیے۔ اس لیے کہ انسان کے جسم میں میلاٹونن مواد کا اخراج سورج غروب ہونے کے بعد اور رات کو سونے کے دوران ہوتا ہے۔ میلاٹونن مواد انسانی جسم کی حیاتیاتی گھڑی کو منظم رکھنے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔