.

کرونا وائرس: سعودی عرب میں کرفیو کے انتظام کے لیے ایپ ’توکلنا‘ کا آزمائشی تجربہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی ڈیٹا اور مصنوعی ذہانت (آرٹی فیشیل انٹیلی جنس) اتھارٹی (سدایا) نے مملکت میں کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے نافذ رات کے کرفیو میں لوگوں کی نقل وحرکت کی نگرانی کے لیے ’توکلنا‘کے نام سے ایک نئی ایپ تیار کی ہے اور اب اس کا آزمائشی بنیاد پر تجربہ کیا جارہا ہے۔

اس ایپ کا کرفیو سے مستثنا نجی اور سرکاری شعبے میں کام کرنے والے ملازمین ،طبی معائنے کے لیے گھر سے باہر جانے کے خواہاں افراد اور گھروں یا دفاتر میں اشیاء مہیا کرنے والے کاروباری اداروں کے ملازمین پرآزمائشی بنیاد پر تجربہ کیا جارہا ہے۔اس کے ذریعے وہ مجاز حکام سے گھروں سے اپنے کام کی جگہوں پر جانے کے لیے برقی اجازت نامہ حاصل کر سکیں گے۔

سدایانے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’ توکلنا ایپ سرکاری اور نجی شعبے کے ملازمین اور عام افراد کی کرفیو کے اوقات میں نقل وحرکت میں سہولت کے لیے تیار کی گئی ہے تاکہ سعودی عرب میں کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے میں مدد مل سکے۔‘‘

اس ایپ کے ذریعے درخواست گزار ہر فرد کو ہفتے میں چار گھنٹے کرفیو کے دوران میں باہر نکلنے کی اجازت ہوگی۔سدایا نے بیان میں وضاحت کی ہے کہ اگر کوئی فرد کرفیو کے حکم کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوتا ہے اور اپنے مقررہ اوقات صرف کرنے کے بعد کسی ہنگامی صورت میں گھر سے باہر نکلتا ہے مگر سکیورٹی اہلکار اس پر جرمانہ عاید کردیتے ہیں تو اس کو ’’ابشر‘‘ ایپ کے ذریعے اپیل دائر کرنے کا حق حاصل ہوگا۔

سعودی عرب نے کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے ملک بھر میں نافذ کرفیو کی پابندیوں میں 26 اپریل سے جزوی طور پر نرمی کی ہے لیکن مکہ مکرمہ اور کرونا وائرس سے زیادہ متاثرہ بعض دوسرے علاقوں میں بدستور مکمل لاک ڈاؤن جاری ہے۔

سرکاری اعلان کے مطابق جن علاقوں میں کرفیو میں نرمی کی گئی ہے،ان کے مکین صبح نو بجے سے شام پانچ بجے تک ضروری کاموں یا اشیائے ضروریہ کی خریداری کے سلسلے میں گھروں سے باہر جاسکتے ہیں۔کرفیو میں یہ نرمی 13 مئی (20رمضان) تک جاری رہے گی