.

خون گروپ’او‘ کے کم جبکہ ’بی‘ اور اے بی‘ کے زیادہ افراد کووِڈ-19 کا شکار ہورہے ہیں:تحقیق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک نئی تحقیق کے مطابق خون گروپ ’او‘ کے حاملین کرونا وائرس کا کم شکار ہورہے ہیں اور ہوئے ہیں جبکہ ’بی‘ اور ’اے بی‘ خون گروپ کے حامل افراد کرونا وائرس کا زیادہ شکار ہوئے ہیں۔

بائیو ٹیکنالوجی کی ٹیسٹنگ کمپنی ’23اینڈ می‘ نے یہ تحقیقات کی ہے۔اس کے مطابق کسی فرد کے خون کا گروپ یہ تعیّن کرسکتا ہے کہ وہ کس حد تک کرونا وائرس کی زد میں آئے گا۔اس کمپنی نے اس تحقیق میں 750000 شرکاء سے حاصل کردہ نتائج استعمال کیے ہیں۔

اس نے آن لائن پوسٹ کیے گئے اپنے تحقیقی نتائج میں بتایا ہے کہ خون گروپ او والے افراد دوسرے گروپوں کے مقابلے میں کرونا وائرس سے زیادہ محفوظ ہیں۔ان کا دوسروں کے مقابلے میں 9 سے 18 فی صد تک کم امکان ہے کہ ان کا کووِڈ-19 کے ٹیسٹ کا نتیجہ مثبت آئے گا۔

23اینڈ می کی تحقیق کے مطابق بی اور اے بی خون گروپوں کے حاملین کے کرونا وائرس کا شکار ہونے کے زیادہ امکانات ہیں۔اس گروپ سے تعلق رکھنے والے جن جواب دہندگان نے اس سروے میں حصہ لیا ہے، ان میں کووِڈ-19 کے مثبت ٹیسٹ کی شرح سب سے زیادہ تھی۔ خون گروپ اے والے ان دونوں کے درمیان ہیں۔

اس مطالعہ کے نتائج کو ہمہ گیر بنانے کے لیے عمر ، صنف ،جسمانی انڈیکس اور نسلی شناخت ایسے عوامل کو بھی ملحوظ رکھا گیا ہے۔اس میں جہاں یہ پتا چلا ہے کہ خون گروپ او کے حاملین کووِڈ-19 کا سب سے کم شکار ہوئے ہیں،وہیں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ اس گروپ کے افراد وائرس کی وجہ سے بہت کم تعداد میں علاج معالجے کے لیے اسپتال گئے ہیں۔

23اینڈ می نے اپنی پوسٹ میں لکھا ہے کہ '' مجموعی آبادی میں او گروپ والے دوسرے خون گروپوں کے حاملین کے مقابلے میں 9 سے 18 فی صد تک کم کرونا وائرس کا شکار ہوئے ہیں یا ان کے کم امکانات ہیں۔جب کرونا وائرس کا شکار ہونے والے تمام خون گروپوں کے افراد کا جائزہ لیا گیا تو او خون گروپ والوں کے کووِڈ کے ٹیسٹ 13 سے 26 فی صد تک مثبت آنے کے کم امکانات پائے گئے ہیں۔''

اس مطالعہ سے یہ بھی پتا چلا ہے کہ ایک فرد کے خون کا گروپ اگر منفی بی یا مثبت بی ہے تو ایسے افراد کے کرونا وائرس کا شکار ہونے کی شرح میں کوئی نمایاں فرق نہیں تھا۔

اس کے مطابق بی یا اے بی نیگٹو یا پازیٹو بلڈ گروپ کے افراد میں کرونا وائرس کا شکار ہونے کی شرح قریب قریب برابر ہی پائی گئی ہے اور یہ نہیں ہوا کہ مثبت خون گروپ والے زیادہ متاثر ہوئے ہیں اور منفی والوں کی تعداد کم رہی ہے۔ہر دو قسم کے خون گروپ کے افراد اس مہلک وائرس کا شکار ہوئے ہیں اور ہوسکتے ہیں۔