.

کرونا وائرس: فاصلاتی تعلیم بالمشافہ تدریس کا متبادل نہیں ہوسکتی،ماہرین کا اظہارِخیال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

’’کرونا وائرس کی وَبا کے دوران میں اختیار کی جانے والی فاصلاتی تعلیم کی تیکنیکیں کبھی ’’بالمشافہ تدریس‘‘ کا متبادل نہیں ہوسکتی ہیں۔‘‘

یہ بات فرانس کے سابق وزیرتعلیم جیک لینگ نے متحدہ عرب امارات کے زیراہتمام تعلیم کے مستقبل کے موضوع پر ایک ورچوئل پینل میں گفتگو کرتے ہوئے کہی ہے۔اس پینل میں کووِڈ-19 کے تناظر میں تعلیم کے لیے چیلنجز اور مواقع پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔

امارات کی سرکاری خبررساں ایجنسی وام کے مطابق مسٹر لینگ اس پینل کے کلیدی مقرر تھے۔وہ پیرس میں قائم عرب ورلڈ انسٹی ٹیوٹ کے صدر بھی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’’کرونا وائرس نے ہمیں ان ڈیجیٹل آلات کی اہمیت سے آگاہ کردیا ہے جن سے اساتذہ مدد لے سکتے ہیں لیکن آیندہ دنیا فاصلاتی تدریس کی نہیں ہونی چاہیے۔ڈیجیٹیل ٹیکنالوجی پر مہارت کےباوجود فاصلاتی تعلّم کبھی بالمشافہ تدریس کا متبادل نہیں ہوسکتا۔‘‘

انھوں نے کہا کہ ’’اعلیٰ تعلیم میں بعض آوازیں آیندہ تعلیمی سال کے آغاز سے فاصلاتی تدریس پر زور دے رہی ہیں۔ میں اس بات میں یقین رکھتا ہوں کہ اس طرح کے اقدامات ڈرامائی ہوسکتے ہیں۔‘‘

اس ورچوئل پینل کی صدارت یو اے ای کے وزی خارجہ شیخ عبداللہ بن زاید آل نہیان نے کی ہے۔وہ امارات کی تعلیمی اور انسانی وسائل کونسل کے چئیرمین بھی ہیں۔

واضح رہے کہ یو اے ای کی حکومت نے کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے،بچوں اور ان کے اساتذہ اس مہلک وائرس کا شکار ہونے سے بچانے کے لیے مارچ کے اوائل میں اسکول بند کردیے تھے۔اس کے بعد سے بچوں کو ان کے گھروں میں فاصلاتی تدریس کے ذریعے تعلیم دی جارہی ہے۔

شیخ عبداللہ نے اپنی گفتگو میں یو اے ای کی اس حکمت عملی کو سراہا اور کہا کہ ’’یہ وائرس پر قابو پانے کے لیے ایک’’عالمی مثال‘‘ ہے۔اس سے امارات کی قیادت کی عوام کے تحفظ اور فلاح وبہبود کو ترجیح اوّل قرار دینے کی بھی عکاسی ہوتی ہے۔‘‘

انھوں نے کہا کہ ’’ یہ ورچوئل اجلاس یو اے ای کی تعلیم کے بارے میں حکمتِ عملی اور کرونا وائرس کے تحت کام کے ایک ’’نئے مرحلے‘‘ کا آغاز ہے۔اس میں اسکولوں کو دوبارہ کھولنے اور کاموں کے دوبارہ آغاز کی حکمت عملی پر غور کیا جارہا ہے‘‘۔

امارات کے وزیرتعلیم حسین ابن ابراہیم الحمادی کے مطابق ملک میں آیندہ تعلیمی سال کا 30 اگست سے آغاز ہوگا لیکن ابھی یہ واضح نہیں کہ نئے تعلیمی سال کے آغاز میں طلبہ اسکولوں میں لوٹ آئیں گے یا فاصلاتی تدریس کے ذریعے انھیں پڑھایا جائے گا یا دونوں طریقے آزمائے جائیں گے۔

ماہرین کے فاصلاتی تعلیم پر تحفظات

اس ورچوئل اجلاس میں امارات کے علاوہ دنیا بھر سے تعلق رکھنے والے تعلیمی ماہرین نے شرکت کی ہے۔انھوں نے فاصلاتی تعلیم کے مختلف پہلوؤں پر اظہارخیال کیا ہے اور اس کے فوائد ونقصانات بیان کیے ہیں۔

برطانیہ کے تعلیمی وقف فنڈ کی چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) پروفیسر بیکی فرانسیس کے مطابق برطانیہ میں لاک ڈاؤن کے دوران میں فاصلاتی تدریس غیرمؤثر ثابت ہوئی ہے۔

انھوں نے اجلاس کے شرکاء کو بتایا کہ ’’2020ء میں انگلینڈ میں اساتذہ اور والدین سے کیے گئے سروے کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ بہت سے شاگرد گھروں میں تعلّم کے وقت اعلیٰ معیار کی سرگرمی میں شریک نہیں ہوتے ہیں۔‘‘

تنظیم برائے اقتصادی تعاون اور ترقی کے ڈائریکٹر تعلیم اور مہارتیں پروفیسر آندریاس شلیشر کا کہنا تھا کہ ’’فاصلاتی تدریس اگرچہ تعلیم کے لیے اہم بن چکی ہے لیکن یہ اسکول کا سماجی کردار مہیا نہیں کرتی ہے۔رسائی ، آن لائن وسائل کے معیار اور استعمال نے عدم مساوات کو دوچند کردیا ہے اور ایکریڈیٹیشن کو بھی خطرے سے دوچار کردیا ہے۔‘‘