.

انگور کے گچّھے وادی نجران کے کناروں کی زینت بن گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں وادی نجران کے کنارے تقریبا 250 ایکڑ پر پھیلے سفید اور سیاہ انگوروں کے گچھے علاقے اور علاقے سے باہر کے لوگوں کے لیے کشش کا باعث بنتے ہیں۔ یہاں سالانہ 4000 ٹن انگور پیدا ہوتا ہے۔

وادی نجران کو پانی کی فراہمی نجران ڈیم سے ہوتی ہے۔ بارشوں کے موسم میں اس ڈیم میں پانی کی سطح 30 میٹر تک بلند ہو جاتی ہے۔ یہاں پانی جمع کرنے کی گنجائش تقریبا 8.6 کروڑ مکعب میٹر ہے۔

نجرانی انگور اپنے منفرد ذائقے کے سبب نجران صوبے اور اس کے باہر خاصا مقبول ہے۔ ایک مقامی کاشت کار عزیز آل حیدر نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ انگور کا درخت ان عمر رسیدہ درختوں میں سے جن کی عمر 70 برس تک پہنچی ہوتی ہے۔ انگوروں کی کٹائی جون کے وسط سے شروع ہو کر جولائی کے اختتام تک جاری رہتی ہے۔

آل حیدر کے مطابق نجران صوبے میں سفید انگور کی چار اور سیاہ انگور کی دو اقسام پیدا ہوتی ہیں۔ گاہکوں کو یہاں کے انگوروں کی خریداری میں خصوصی دل چسپی ہوتی ہے۔ یہاں انگور کے فی کلو نرخ 15 سے 20 ریال ہوتے ہیں۔ گاہکوں کو کھیتوں سے تازہ انگور لے کر دیے جاتے ہیں۔

نجران صوبہ پرانے وقتوں سے ہی اپنی اعلی کوالٹی کی زرعی پیداوار کے سبب امتیازی اہمیت کا حامل ہے۔ اس حوالے سے یہاں کی مٹی کی زرخیزی اور میٹھے پانی کی فراہمی کا اہم کردار ہے۔

نجران کے کھیتوں میں اس وقت موسم سرما کی مختلف زرعی کاشتوں کی کٹائی کا عمل جاری ہے۔ تاہم ان میں نمایاں ترین کاشت اس وقت نجران کا انگور ہے۔ اس کی دو مرکزی اقسام ہیں جن میں سیاہ انگور السوادی اور سفید انگور البیاضی کے نام سے جانا جاتا ہے۔