.

جاپان میں میرے خلاف سازش ہوئی،وہاں یرغمال تھا،انصاف سے نہیں بھاگا: کارلوس غصن

1999ء میں مردہ جاپانی کمپنی نسان موٹر کا انتظام سنبھالا،علاحدگی کے وقت وہ 20 ارب ڈالرز منافع کما رہی تھی: العربیہ سے گفتگو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

’’میرے فون کی نگرانی کی جارہی تھی، ہر جگہ کیمرے لگے ہوئے تھے،ہر وقت مجھ پر نظریں لگی ہوئی تھیں۔ایسے نگران بھی ہوسکتے تھے جن کا میں سراغ نہیں لگا سکا تھا۔اس صورت حال میں، میں نے ایک نظام وضع کیا اور میں نے جاپان سے باہر بیٹھے لوگوں سے بات کی اور اس نظام کے تانے بانے بُنے۔‘‘

یہ جاپان کی موٹر ساز کمپنی نِسان موٹرکے سابق چیئرمین کارلوس غصن کے الفاظ تھے۔ وہ العربیہ سے خصوصی گفتگو کررہے تھے۔ انھوں نے کہا:’’ میں جاپان سے انصاف کے خوف سے نہیں بھاگا ہوں بلکہ میں نے وہاں سے اس لیے راہ فرار اختیار کی کیونکہ مجھے یرغمال بنا لیا گیا تھا۔وہ (جاپانی ) یہ چاہتے تھے کہ میں اس فعل کا اقرار کروں جو میں نے کیا ہی نہیں یا جس کے بارے میں، میں جانتا ہی نہیں ہوں۔ یہ ایک سازش تھی۔‘‘

انھیں گذشتہ سال دسمبر میں ایک نجی سکیورٹی کمپنی ٹوکیو سے اسمگل کرکے استنبول لائی تھی۔ان کے جاپان سے فرار کا منصوبہ اس سے تین ماہ پہلے بنایا گیا تھا۔

تب یہ اطلاع سامنے آئی تھی کہ گلوکاروں اور موسیقی کاروں کا ایک دستہ جاپان میں کارلوس غصن کے مکان میں یہ کہہ کر داخل ہوا تھا کہ وہ ایک عشائیے کے دوران میں لوگوں کی تفریح طبع کے لیے اپنے فن کا جادو جگائے گا۔اس تقریب کے بعد غصن موسیقی کے آلات کو رکھنے والے ایک صندوق میں چھپ گئے اور پھر ایک مقامی ہوائی اڈے سے جاپان سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے تھے۔یہ طائفہ دراصل مذکورہ سکیورٹی کمپنی کے اہلکاروں پر مشتمل تھا۔

وہ استنبول کے بعد لبنان آگئے تھے۔انھوں نے العربیہ کے طاہر برکہ سے خصوصی انٹرویو میں جاپان سے اپنے کامیاب فرار کی یہ کہانی بیان کی ہے۔انھوں نے بتایا کہ ’’ میں نے یہ تمام منصوبہ وضع کیا تھا لیکن مجھے اطلاعات اور مدد کی ضرورت تھی۔‘‘

غصن نے اس انٹرویو میں نسان موٹرز کے سربراہ کی حیثیت سے اپنی کامیابیوں ،جاپانی حکومت کے ان کے خلاف الزامات اور انٹرپول کے وارنٹ گرفتاری ،لبنانی حکومت کی مدد ومعاونت کے بارے میں تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔

انھوں نے ایک مرتبہ پھر خود پر جاپانی حکومت کے عاید کردہ الزامات کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ ان کے خلاف دراصل ایک سازش ہوئی تھی اور اس کا سبب نسان اور اس کی شراکت دار فرانس کی کارساز کمپنی رینالٹ کے درمیان تعاون بڑھانے اور ادغام کے لیے اقدامات بنے تھے۔

انھوں نے کہا:’’ وہ (جاپانی) رینالٹ اور نسان کے ادغام سے خوف زدہ تھے ۔وہ یہ بات اچھی طرح جانتے تھےکہ میں ہی وہ شخص ہوں جو یہ کام کرسکتا ہے کیونکہ مجھے رینالٹ ، نسان اور مٹسوبشی میں کام کا تجربہ حاصل تھا۔‘‘

کارلوس غصن نے دعویٰ کیا ہے کہ جاپان کی پراسیکیوشن سروس غیرملکیوں کے خلاف حقائق کو مسخ کرکے پیش کرتی ہے۔ اگر وہ جاپان میں رہتے تو انھیں منصفانہ ٹرائل کی امید نہیں تھی کیونکہ جاپانی استغاثہ اپنے کیسوں میں سے 99۰4 فی صد میں جیت جاتا ہے۔

واضح رہے کہ نِسان موٹر کے سابق چیئرمین کے خلاف جاپان میں بدعنوانی کے الزام میں مقدمہ چلایا جارہا ہے۔ان پر اپنی مستقبل کی مراعات کو مخفی رکھنے اور اعتماد کو ٹھیس پہنچانے پر فرد الزام عاید کی گئی تھی لیکن وہ خود کو بے قصور قرار دیتے ہیں۔

انھوں نے ان تمام الزامات کو مسترد کردیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ جاپانی حکام نے نِسان موٹر کمپنی اور رینالٹ ایس اے کے ممکنہ مکمل ادغام کو روکنے کے لیے ان کے خلاف من گھڑت اور غلط الزامات عاید کیے تھے۔انھوں نے ڈیڑھ ارب یِن ( ایک کروڑ چالیس لاکھ ڈالر) کے بدلے میں اپنی رہائی کے لیے ضمانت کروائی تھی لیکن ان کی یہ ضمانت بعد میں منسوخ کی دی گئی تھی۔

سمورائی ہیرو سے آمر تک

کارلوس غصن دنیا کے بڑے کاروباری منتظمین میں شمار کیے جاتے ہیں۔ ان کے پاس فرانس ،لبنان اور برازیل کی شہریت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انھیں ان کے زوال تک جاپان میں ’’سمورائی‘‘ ہیرو قرار دیا جاتا تھا اور پھر راتوں رات انھیں آمر قرار دے دیا گیا۔

انھوں نے دعویٰ کیا ہے کہ جاپان میں نسان موٹر میں سترہ سالہ کام کے دوران میں ان کی کامیابیوں کی بنا پر انھیں ہیرو قرار دیا جاتا تھا۔ پھر اچانک ان کے خلاف الزامات سامنے آگئے۔

انھوں نے العربیہ کو بتایا:’’ میں نے جاپان میں 1999ء میں ایک مردہ کمپنی کا انتظام سنبھالا تھا۔ میں ان کی زبان نہیں بول سکتا تھا۔وہ دو مرتبہ کمپنی کی بحالی میں ناکام رہے تھے۔ 1999ء میں کمپنی نے سالانہ 25 لاکھ کاریں فروخت کی تھی اور وہ بھاری رقم سے محروم ہوگئی تھی۔اس پر 20 ارب امریکی ڈالر کا قرض چڑھا ہوا تھا اور کوئی ایک جاپانی بنک بھی اس کو قرضہ دینے کو تیار نہیں تھا۔‘‘

انھوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ’’2017ء میں جب میں نے کمپنی کو چھوڑا تواس وقت وہ سالانہ منافع کما رہی تھی اور صرف 2009ء میں عالمی اقتصادی بحران کے سال کے سوا اس نے ان تمام برسوں میں اربوں ڈالر منافع کمایا تھا۔میری کمپنی سے علاحدگی کے وقت وہ 20 ارب ڈالرز منافع کما رہی تھی اور سالانہ 25 لاکھ کے بجائے 58 لاکھ کاریں تیار کر کے فروخت کر رہی تھی۔اس کے سوا اورآپ کو کیا چاہیے تھا اور اس طریقے ہی سے میں ایک ہیرو بنا تھا مگر 2018ء کے بعد پھر سے کمپنی زوال کی جانب لڑھک رہی ہے۔‘‘

کارلوس غصن نے لبنانی حکومت کی جانب سے پناہ دینے اور حمایت کو سراہا ہے اور فرانس پر تنقید کی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ فرانس نے تو مجھ سے دوسرے درجے کے شہری کا سا سلوک کیا تھا۔ واضح رہے کہ لبنانی صدر میشیل عون نے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ کارلوس ملک میں غیر قانونی طور پر داخل ہوئے تھے اور انھوں نے انھیں جاپان کے حوالے کرنے سے انکار کردیا تھا کیونکہ دونوں ملکوں کے درمیان ملزموں کی حوالگی کا کوئی معاہدہ نہیں تھا۔

نسان موٹر کے سابق چیئرمین نے اعتراف کیا ہے کہ لبنان نے ان کی ہر طرح سے مدد کی ہے اور انھوں نے بھی اس ملک میں رہنے کا انتخاب کیا ہے کیونکہ ان کی اہلیہ کیرول لبنانی ہیں۔وہ اس وقت دارالحکومت بیروت کے علاقے اشرفیہ میں رہ رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ’’ مجھے لبنان میں اپنے تحفظ کی ضرورت نہیں ہے۔میں یہ بالکل خیال نہیں کرتا کہ لبنانی حکومت میرے خلاف ہے۔‘‘