.

خلیج عرب ممالک میں کووِڈ-19 کے مریضوں کی صحت یابی کی شرح عالمی سطح سے بلند تر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

خلیج تعاون کونسل ( جی سی سی) کے پانچ رکن ممالک میں کرونا وائرس کے مریضوں کے صحت یاب ہونے کی شرح دنیا بھر کی اوسط شرح سے زیادہ ہے۔

کووِڈ-19 کے رجحانات کا تجزیہ کرنے والے کمیونٹی پراجیکٹ کرونا ٹریکر ڈاٹ کام نے اپنے ڈیٹا کے تجزیے بعد بتایا ہے کہ جی سی سی کے پانچ ممالک بحرین، سعودی عرب ، کویت ، عُمان اور متحدہ عرب امارات میں مریضوں کے صحت یاب ہونے کی شرح 81 فی صد ہے جبکہ عالمی سطح پر کووِڈ-19 کے مریضوں کے تن درست ہونے کی شرح 57 فی صد ہے۔

ان ممالک میں بحرین میں کرونا کے مریضوں کی صحت یابی کی شرح سب سے زیادہ ہے اور وہ 89 فی صد ہے،اس کے بعد یو اے ای میں 86 فی صد ، کویت میں 84 فی صد ، سعودی عرب میں 80 فی صد اور عُمان میں 62 فی صد ہے۔

اس مطالعے میں کووِڈ-19 کے مکمل صحت یاب ہونے والے مریضوں کے تناسب کا تعیّن کل مریضوں میں سے کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ خلیج عرب میں کرونا وائرس کی وَبا فروری میں پہنچی تھی اور سب سے پہلے یو اے ای نے کرونا وائرس کے ابتدائی کیسوں کی اطلاع دی تھی۔یہ تمام چینی سیاح تھے جو ایک کمپنی میں کام کرتے تھے اور ان میں زیادہ ترچین کے شہر ووہان سے آئے تھے جہاں دسمبر میں سب سے پہلے کرونا وائرس کی وبا پھوٹی تھی۔

یو اے ای کے بعد بحرین نے کرونا وائرس کے مریضوں کی اطلاع دی تھی اور اوّلین متاثرہ افراد ایران سے لوٹے تھے جہاں چین کے بعد سب سے پہلے یہ مہلک وَبا پھیلی تھی اور وہاں سے جی سی سی کے رکن ممالک میں پہنچی تھی۔

کرونا وَبا کے ردعمل میں اقدامات

خلیجی عرب ممالک نے کرونا وائرس کے مریضوں کی تشخیص کے بعد سخت احتیاطی اور حفاظتی اقدامات کیے تھے۔انھوں نے اپنی زمینی اور فضائی سرحدیں بند کردی تھیں اور کرونا کے ٹیسٹوں کا عمل تیز کردیا تھا۔بحرین نے چین کے بعد سب سے پہلے فروری میں لاک ڈاؤن کا نفاذ کیا تھا۔اس نے کاروباری مراکز،تعلیمی اداروں اور جامعات کو بند کردیا تھا۔

ایک مشاورتی فرم آپکو ورلڈ وائیڈ کے مطابق یو اے ای اور بحرین میں بڑے پیمانے پر کرونا کے ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔یو اے ای میں روزانہ ہزاروں افراد کے کووِڈ-19 کے ٹیسٹ کیے جارہے ہیں۔اماراتی حکام نے قبل ازیں کہا تھا کہ وہ ملک میں موجود ہر شہری اور مکین کا ٹیسٹ کریں گے۔

مارچ کے آخر تک جی سی سی میں شامل تمام چھے ممالک نے بین الاقوامی پروازوں کی آمد ورفت معطل کردی تھی۔یو اے ای کی امارات ائیرلائنز نے حال ہی میں اپنی بین الاقوامی پروازیں بحال کی ہیں اور بین الاقوامی سیاحوں کو 7 جولائی سے احتیاطی تدابیر کی پاسداری کے ساتھ ملک میں دوبارہ داخلے کی اجازت دے دی ہے۔

کرونا ٹریکر ڈاٹ کام نے بین الاقوامی میڈیا ، ایجنسیوں اور سرکاری اداروں سمیت مختلف ذرائع سے ڈیٹا اکٹھا کیا ہے۔ ان میں عالمی ادارہ صحت ( ڈبلیو ایچ او) مراکز برائے انسداد امراض اور بچاؤ اور یورپی مرکز برائے انسداد امراض اور کنٹرول ایسے ادارے شامل ہیں۔

قطر خلیج تعاون کونسل میں شامل چھٹا ملک ہے۔اس نے اب تک سعودی عرب کے بعد کرونا وائرس کے سب سے زیادہ کیسوں کی اطلاع دی ہے۔واضح رہے کہ جون 2017 سے سعودی عرب ، بحرین ، یو اے ای اور مصر نے قطر کے ساتھ ہر طرح کے سیاسی ، سفارتی اور مواصلاتی رابطے منقطع کررکھے ہیں۔ ان ممالک نے قطر پر دہشت گردی اور انتہا پسند گروپوں کی مالی معاونت کا الزام عاید کیا تھا جبکہ قطر نے اس الزام کی تردید کی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں