.

سہیٰ عرفات کی فلسطینیوں کے یواے ای ، اسرائیل ڈیل کے خلاف مظاہروں پرمعذرت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیجنڈ فلسطینی لیڈر یاسرعرفات کی بیوہ سہیٰ عرفات نے متحدہ عرب امارات سے فلسطینی علاقوں میں امن ڈیل کے خلاف احتجاجی مظاہروں پر معذرت کر لی ہے۔یو اے ای کے اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے کے خلاف فلسطینیوں نے گذشتہ چند روز کے دوران میں اپنے علاقوں میں احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔امارات کی قیادت نے اس پر ناراضی کا اظہار کیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 13 اگست کو یو اے ای اور اسرائیل کے درمیان معمول کے تعلقات استوار کرنے سے متعلق اس تاریخی امن معاہدے کا اعلان کیا تھا۔اسرائیل نے اس معاہدے کے بدلے میں دریائے اردن کے مغربی کنارے کے علاقے میں فلسطینیوں کی مزید اراضی ہڑپ کرنے کا عمل معطل کرنے سے اتفاق کیا ہے۔

فلسطینیوں نے اس معاہدے کے خلاف مقبوضہ بیت المقدس اور دوسرے فلسطینی علاقوں میں احتجاجی مظاہرے کیے ہیں اور یو اے ای کے قومی پرچم کو بھی نذر آتش کیا ہے۔ سہیٰ عرفات نے ان واقعات کے ردعمل میں انسٹاگرام پر ایک پوسٹ میں لکھا ہے کہ’’میں معزز فلسطینی عوام کی جانب سے امارات کے عوام اور ان کی قیادت سے ان کے قومی پرچم کو نذرآتش کرنے اور اس محبوب ملک کی علامتوں کی بے توقیری پر معذرت کرتی ہوں۔‘‘

انھوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ ’’اختلاف رائے کو دوستی کو ملیامیٹ کرنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔‘‘اس کے ساتھ انھوں نے اپنے مرحوم خاوند یاسر عرفات کی یو اے ای کے مرحوم حکمراں شیخ زاید بن سلطان آل نہیان سے ملاقات کی ایک تصویر بھی پوسٹ کی ہے۔

سہیٰ عرفات نے لوگوں پر زوردیا ہے کہ وہ تاریخ کا مطالعہ کریں،یو اے ای کے بارے میں مزید جانیں کہ اس نے ماضی میں کس طرح فلسطینی عوام کی مدد ومعاونت کی تھی اور آج بھی اس نے ان کی اور ان کے نصب العین کی حمایت جاری رکھی ہوئی ہے۔

وہ مزید لکھتی ہیں: ’’ میں اگر کسی فلسطینی کی جانب سے یو اے ای کے مخیّر اور نیک لوگوں کو کوئی تکلیف پہنچی ہے تو اس پر امارات کی قیادت اور عوام سے معافی مانگتی ہوں۔ میں اماراتیوں کی مادرقوم جناب الشیخہ فاطمہ بنت مبارک سے بھی فلسطینیوں کے غیر ذمے دارانہ کردارپر معذرت خواہ ہوں۔‘‘

یو اے ای کے حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیل سے ان کی ڈیل کا مقصد غربِ اردن میں فلسطینیوں کے علاقوں کا صہیونی ریاست میں انضمام روکنا ہے اور یہی مقصد ان کی ترجیح ہے۔ان کا کہنا ہے کہ یہ ڈیل عرب ریاستوں کے لیے ایک مثبت تزویراتی تبدیلی کی مظہر ہے۔

اسرائیل سے ماضی میں امن معاہدے طے کرنے والے دو عرب ممالک مصر اور اردن نے اس ڈیل کا خیر مقدم کیا ہے۔ یو اے ای کے دو ہمسایہ ممالک بحرین اور عُمان نے بھی اس نئی ڈیل کا خیرمقدم کیا ہے جبکہ فلسطینیوں نے اس کو مسترد کردیا ہے۔