.

یہودی سیاحوں کے لیے یو اے ای میں چار پُرکشش چیزیں اور مقامات کیا ہوسکتے ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات میں یوں تو عالمی سیاحوں کی کشش کے لیے بہت سے مقامات اور چیزیں ہیں۔دنیا کی سب سے طویل عمارت البرج خلیفہ یہیں ہے، شیخ زاید جامع مسجد ہے،مصنوعی جزیرہ پام جمائزہ ہے اور دبئی فریم ہے۔یہ مقامات سیاحوں کے لیے کشش کا ساماں تو لیے ہوئے ہیں، ان کے ساتھ ساتھ یو اے ای میں یہود کے بعض تاریخی نوادر اور مقدس مقامات بھی ہیں جنھیں دیکھنے کے لیے اسرائیل اور دنیا بھر میں مقیم یہود یو اے ای کا رُخ کرسکتے ہیں۔

یو اے ای میں یہود کی تاریخ اور ثقافت کی دریافت کے لیے سیاح درج ذیل چار مقامات کا رُخ کرسکتے ہیں:

لوفرے عجائب گھر ،ابوظبی

ابو ظبی میں واقع لوفرے میوزیم میں تورات کا یمنی نسخہ موجود ہے۔یہ قریباً 1498ء کا لکھا ہوا ہے اور یمنی دارالحکومت صنعاء میں یہ دریافت ہوا تھا۔اس کے علاوہ عبرانی زبان میں بائبل کا ایک نسخہ ہے۔اس کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ یہ سنہ 1232عیسوی میں لکھا گیا تھا اور یہ اسپین سے لوفرے عجائب گھر میں منتقل کیا گیا تھا۔اس کو اسرائیل بن کیساریس نے نقل کیا تھا۔ٹاور آف بابل کی آئیل پینٹنگ ہے۔یہ ایبل گریمر کا فن پارہ ہے اور یہ سنہ 1595ء میں بنایا گیا تھا۔

لوفرے عجائب گھر میں ایک تعاملی ورچوئل نمائش گاہ بھی ہے۔اس کو’’ادیانِ کتب‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔اس میں زائرین یہود ، مسیحیوں اور مسلمانوں کی مقدس کتب کے بارے میں معلومات حاصل کرسکتے ہیں۔

راس الخیمہ کا قومی عجائب گھر

یو اے ای میں شامل امارت راس الخیمہ کے قومی عجائب گھر میں یہود کا ایک نادر آرکیالوجی ٹکڑا موجود ہے۔یہ خلیج عرب سے تعلق رکھتا ہے۔ یہ داؤد نامی ایک شخصیت کی قبر کے کتبے کا ٹکڑا ہے اور اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ 1507ء سے 1650ء تک کے دور سے تعلق رکھتا ہے۔

اس کتبہ پرعبرانی زبان میں عبارت لکھی ہوئی ہے اور اس کا ان الفاظ میں آغاز ہوتا ہے:’’ یہ مرحوم داؤد بن موسیٰ کی قبر ہے۔‘‘ ان کے مقبرے کے پتھر کا یہ ٹکڑا راس الخیمہ کے علاقے شمال میں 1998ء میں دریافت ہوا تھا۔

ایلی کا کوشر باورچی خانہ

یو اے ای میں آنے والے یہود کو اپنے مخصوص کھانوں کے بارے میں بھی فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ دبئی میں ایک تارکِ وطن یہودی خاتون ایلی کریل نے ایک کوشر کچن بنا رکھا ہے جہاں یہود کو ان کی مذہبی روایات کے مطابق کھانے مہیّا کیے جاتے ہیں۔

انھوں نے گذشتہ سال یہ ریستوران کھولا تھا اور وہ خلیج عرب میں کوشر کھانے مہیّا کرنے والی پہلی خاتون بن گئی تھیں۔کریل نے یہود کے مخصوص کھانوں کے ساتھ مقامی ذائقے کو بھی شامل کیا ہے۔

انھوں نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’میں یہود کے کھانوں کے ساتھ ایک نیا تجربہ کرنا چاہتی ہوں اور ان کے ساتھ یو اے ای کے ماحول اور کھانوں کی آمیزش سے نیا ذائقہ متعارف کرانا چاہتی ہوں۔میں اس کو ’’کوشراتی‘‘کانام دیتی ہوں۔‘‘

آلِ ابراہیم ہاؤس

ابوظبی میں واقع جزیرہ سعدیات میں اس وقت آل ابراہیم کے نام سے ایک گھر (ہاؤس) زیر تعمیر ہے۔اس کمپاؤنڈ میں ایک اسلامی مسجد ، یہود کا صومعہ اور مسیحی چرچ ہوگا۔

اس کو حضرتِ ابراہیم علیہ السلام کے نام پر رکھا گیا ہے کیونکہ انھیں تینوں الہامی ادیان اور توحیدی مذاہب یہود ، عیسائیت اور اسلام کے انبیاء کا باپ (ابوالانبیاء) سمجھاجاتا ہے۔

یہ کمپلیکس 2022ء میں مکمل ہوگا۔اس میں مختلف النوع پروگرام منعقد ہوں گے۔یہاں روزانہ مذہبی عبادات ہوں گی، مختلف تقاریب کی میزبانی ہوگی اور بین الاقوامی کانفرنسیں منعقد ہوں گی۔