.

برطانیہ کے لیے نازیوں کی جاسوسی کرنے والی مسلم خاتون کے لیے اعزاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تقریبا 76 برس گزر جانے کے بعد برطانیہ کو احساس ہوا کہ اب اس مسلمان شہزادی کو اعزاز و اکرام سے نوازنے کا وقت آ گیا ہے جس نے دوسری جنگ عظیم کے دوران فرانس پر نازیوں کے قبضے کے بعد برطانیہ کے مفاد میں جاسوسی انجام دی تھی۔ اس شہزادی کا نام "نور عنایت خان" تھا۔ نور کو فائرنگ کر کے موت کے گھاٹ اتارا گیا تو اس موقع پر وہ فرانسیسی زبان میں "آزادی آزادی" چلّا رہی تھی۔ برطانیہ میں English Heritage ٹرسٹ نے اسے یادگاری تختی پیش کی۔ یہ عام طور پر مشہور شخصیات کو پیش کی جاتی ہے۔ ادارے نے لندن کے وسط میں واقع Taviton Street پر اس اپارٹمنٹ کو بھی درست کیا جہاں نور اپنے اہل خانہ کے ساتھ رہا کرتی تھی۔

گذشتہ روز مذکورہ ٹرسٹ کے ایک وفد نے نور کے اپارٹمنٹ کی بیرونی دیوار پر نیلے رنگ کی تختی نصب کی۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ فٹ پاتھ پر سے گزرنے والے افراد اس تختی کو دیکھ کر جان لیں کہ نور ایک اہم شخصیت تھی۔ نور نے وہ خدمات انجام دیں جن کے سبب اس کو خراج تحسین پیش کیا جانا چاہیے۔ ساتھ یہ بھی معلوم ہو سکے کہ نور اس اپارٹمنٹ میں رہائش پذیر تھی۔ تختی کے نصب ہونے کے بعد اس اپارٹمنٹ کی قیمت میں نمایاں طور پر اضافہ ہو گا۔

نور کے گھر کے باہر نصب تختی لندن میں موجود 950 یادگاری تختیوں میں سے ایک ہے۔ ان تختیوں میں سے 14% خواتین کے اعزا و اکرام کے لیے مخصوص ہیں۔ نور کا پورا نام "نور النساء عنايت خان" تھا۔ وہ 1914ء میں پیدا ہوئی اور 1944ء میں دنیا سے رخصت ہو گئی۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران نور نے Madeleine کے فرضی نام سے ایک خفیہ ادارے کے لیے بطور ایجنٹ (جاسوس) کام کیا۔ اس ادارے کا نام Special Operations Executive تھا۔ اسے مختصرا SOE کے نام سے جانا جاتا تھا۔

انٹرنیٹ اور میڈیا میں دستیاب معلومات کے مطابق نور ماسکو میں پیدا ہوئی۔ اس کا باپ بھارت اور ماں امریکا سے تعلق رکھتی تھی۔ نور نے اپنا بچپن لندن میں گزارا اور بعد ازاں وہ اپنے گھرانے کے ساتھ پیرس منتقل ہو گئی۔ نور کا تعلق بھارت کے معروف مسلمان حکمراں ٹیپو سلطان کے خاندان سے تھا۔ وہ فرانسیسی زبان میں مقامی باشندوں کی طرح مہارت رکھتی تھی۔ اس نے اپنی عملی زندگی کا آغاز بچوں کے لیے کتابیں لکھ کر کیا۔ جب 1940ء میں ہٹلر کی جرمن فوج نے پیرس پر قبضہ کیا تو وہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ فرار ہو کر لندن آ گئی۔

کتابوں کی تالیف کے کام سے منتقل ہو کر نور برطانوی فوج کے وائرلیس سسٹم پر آ گئی۔ بعد ازاں وہ "اسپیشل مشن ٹیم" میں شامل ہو گئی جس کو اس وقت کے برطانوی وزیر اعظم ونسٹن چرچل نے قائم کیا تھا۔ نور کو 16 جون 1943ء کو فرانس میں دراندازی کے لیے بھیجا گیا۔ وہ وہاں میڈلین کے نام سے رہی اور اس نے فرانسیسی مزاحمت کاروں کے ساتھ خفیہ طور پر کام کیا۔ اسی دوران وہ چوری چھپے ان وائر لیس پیغامات کو بھی حاصل کرتی رہی جو قابض نازی افواج کی جانب سے نشر کیے جاتے تھے۔ وہ ان پیغامات کا متن لندن میں اپنے خفیہ ادارے کو ارسال کر دیتی۔ تقریبا پانچ ماہ بعد وہ ایک چال کے ذریعے بچھائے گئے جال میں پھنس گئی۔ نازیوں کی خفیہ پولیس نے اسے گرفتار کر کے پوچھ گچھ شروع کر دی۔

اس خفیہ پولیس نے 10 ماہ تک نور کو تشدد کا نشانہ بنایا مگر اس نے اپنے پاس موجود کسی معلومات کو زبان پر نہ آنے دیا۔ تنگ آ کر اسے جرمنی کے جنوب میں Dachau کے عسکری کیمپ منتقل کر دیا گیا۔ یہاں نور کو ایک بار پھر 12 ستمبر 1944ء کو پوری رات پوچھ گچھ اور تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔ اگلی صبح تک اس نے اپنی خاموشی نہیں توڑی۔ یہاں تک کہ ایک اہل کار نے نور کے سر میں گولی مار کر اس کو موت کی نیند سلا دیا۔