.

طائف سعودی عرب میں‌ تاریخی محلات کا شہر کیوں کہلاتا ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے تاریخی شہر طائف کو تاریخی محلات کا اور قلعوں کا شہر قرار دیا جاتا ہے۔ زمانہ قدیم میں طائف میں لگنے والے عکاظ میلے کے دوران بھی لوگ جوق در جوق اس شہر میں آتے۔ زمانہ جاھلیت میں حج کی غرض سے مکہ آنے والے زائرین طائف کا بھی رخ کرتے۔ یہ سلسلہ آج بھی جاری و ساری ہے۔

طائف شہر میں موجود تاریخی محلات اور پرانی عمارتیں بھی سیاحوں کو اپنی طرف کھینچنے کا ایک بڑ سبب ہیں۔ طایف میں قدیم اور جدید فن تعمیر کے نمونے ایک ساتھ دیکھنے کو ملتے ہیں یہی وجہ ہے کہ اسے فن تعمیر کے میدان میں جدید وقدیم کا امتزاج سمجھا جاتا ہے۔ فن تعمیر اہل طائف کی پہچان اور تشخص رہا ہے، یہاں‌پر عمارتوں کی تعمیر کے لیے مختلف طرح کےپتھروں کا استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ جن میں چونے کا پتھر، سنگ مرمر اور چٹانی پتھر شامل ہیں۔ یہاں پر آپ کو حجازی اور اسلامی طرز کی عمارتیں‌ بھی بہ کثرت ملیں‌ گی۔

جبرہ المخزومیہ

جبرہ المخزومیہ طائف میں واقع پرانہ محل سمجھا جاتا ہے۔ یہ محل خلافت بنو امیہ کے دور میں 114ھ میں تعمیر کیا گیا اور اسے جبرہ المخزومیہ کا نام دیا گیا۔ یہ تین منزلہ محل ہے جس کے سامنے ایک بڑا صحن ہے۔ اس کے اطراف میں کئی باغات اور کھیت ہیں جو اس کی شان وشوکت میں مزید اضافہ کرتے ہیں۔

جبرہ المخزومیہ محل کی ایک سے زاید بار مرمت کی گئی۔ اس کے اندرونی مقامات میں نقوش بنائے گئے اور سنگ مرمر کا استعمال کیا گیا۔ ان نقوش میں اسلامی دور کی عکاسی کی گئی ہے۔

شبرا محل

طائف میں واقع تاریخی محلات میں ایک محل شبرا کہلاتا ہے۔ اسے طائف شہر کا چہرہ بھی قرار دیا جاتا ہے۔ یہ محل بھی اسلامی فن تعمیر کا ایک شاہکار ہے۔ اس کی تعمیر کے دوران اس پر حجازی، الرواشین اور رومن طرز کی نقوش سے سجایا گیا۔

شبرا محل چار منزلہ عمارت ہے جس میں 150 کمرے ہیں۔ سنہ 1995ء کو اس محل کو ثقافتی میوزیم میں تبدیل کردیا گیا تھا۔ اس میں موجود قدیم زرعی آلات، تعمیرات کے لیے استعمال ہونے والے آلات،تیل نکالنے والے آلات اور قدیم جنگی آلات کےنمونے محفوظ کیے گئے ہیں۔ سعودی مملکت کے بانی شاہ عبدالعزیز آل سعود نے بھی متعدد بار اس محل کو شرف باریابی بخشا۔

برکہ الخرابہ

طائف کے تاریخی مقامات اور محلات میں قصر الخرابہ کا ذکر نہ کرنا ایک اہم تاریخی مقام کو فراموش کرنا ہوگا۔ کہ محل طائف شہر کے شمال میں واقع ہے۔ اس کے قریب زبیدہ کا کنواں واقع ہے جہاں سے پانی کی 50 نالیاں نکالی گئی ہیں۔ پرانے زمانے میں یہاں سے عراق کے حجاج کرام حجاز مقدس میں دخل ہوتے تھے۔

کہا جاتا ہے کہ یہ محل خلیفہ ہارون الرشید کے دور میں بنایا گیا۔ دوسری صدی ھجری میں عین زبیدہ بنایا گیا۔ یہ کنواں ہارون الرشید کی بیوی زبیدہ کے حکم سے کھودا گیا تھا۔ اس محل کی دیواروں پر دور جاھلیت کے شاعروں‌کے اشعار بھی کندہ کیے ہیں جو آج بھی دیکھنے والوں کو سیکڑوں سال پیچھے لےجاتے ہیں۔