.

ایم بی سی گروپ کا تجارتی اشتہارات اورسیلز کے لیے الگ سے ڈویژن قائم کرنے کااعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایم بی سی گروپ نے ان ہاؤس تجارتی اشتہارات اور سیلز کے لیے انجنیئر ہولڈنگ گروپ (ای ایچ جی) کی شراکت سے میڈیا سروسز کے نام سے ایک الگ ڈویژن قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

گروپ نے بدھ کو جاری کردہ ایک بیان میں بتایا ہے کہ اس نئے ڈویژن کا نام ’’ایم بی سی میڈیا سروسز‘‘ ہوگا۔اس پر زیادہ تر کنٹرول ایم بی سی گروپ ہی کا ہوگا اور آیندہ سال سے یہ اپنی سرگرمیوں کا آغاز کردے گا۔

ایم بی سی گروپ کے چیئرمین ولید بن ابراہیم آل ابراہیم نے بیان میں کہا ہے کہ ’’میڈیا کی صنعت نے گذشتہ دو عشرے کے دوران میں نمایاں تبدیلیاں ملاحظہ کی ہیں۔یہ سب ٹیکنالوجی میں نت روز ہونے والی پیش رفت اور صارفین کے سوشل میڈیا کے پلیٹ فارمز اور موبائل سروسز کو اختیار کرنے کا نتیجہ ہیں۔ہم مارکیٹ کی ان قوتوں کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے تیزی سے آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔ہمارے ہاں ان ہاؤس تجارتی کاروباری یونٹ کے قیام سے ہم اپنے ٹیلی ویژن ، ڈیجیٹل اور او ٹی ٹی پلیٹ فارموں کو بہتراور مربوط حل پیش کرسکیں گے۔‘‘

ای ایچ جی العربیہ کنٹریکٹنگ سروسز کا ملکیتی ایک میڈیا اور سرمایہ کار گروپ ہے۔ سعودی عرب میں یہ ’’گھر سے باہر اشتہاربازی‘‘ میں اہم کردار ادا کررہا ہے۔کھیلوں اور تقریبات کی مارکیٹنگ کے شعبے میں کام کرنے والی سعودی میڈیا کمپنی (الوسائل السعودیہ) بھی اس گروپ کا حصہ ہے۔

ای ایچ جی کے بانی چیئرمین انجنیئر عبدالاالہ الخریجی نے کہا ہے کہ’’ ہمیں فخر ہے،ہم ایم بی سی ایسے مؤقر ادارے کے ساتھ شراکت داری قائم کررہے ہیں۔اس نے ہمارے خطے میں میڈیا کے شعبے کی ترقی میں قائدانہ کردار ادا کیا ہے۔ہم اپنے معاشرے ، صارفین اور اشتہاری صنعت کو بہترخدمات مہیا کرنے کے لیے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کو تیار ہیں۔‘‘

اس نئے شعبے کے قیام سے قبل ایم بی سی نے میڈیا کے شعبے میں اپنی پیش کشوں کو بہتر بنانے کے لیے اہم اقدامات کیے ہیں۔گروپ اپنی ڈیجیٹل خدمات پر توجہ مرکوز کررہا ہے۔ ان میں مشرقِ اوسط اور شمالی افریقا میں ویڈیو اسٹریمنگ کی سروس شاہد نمایاں اہمیت کی حامل ہے۔

ایم بی سی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر مارک انٹوئن ہالوئن کا کہنا ہے کہ ’’ہم نے جدت طرازی کا اپنا سفر مسلسل جاری رکھا ہوا ہے۔شاہد وی آئی پی کی کامیابی اس کی مظہر ہے۔ ہم ناظرین کے روزانہ جائزے کے لیے بھی ضروری اقدامات کررہے ہیں تاکہ جن ممالک میں ہم کام کررہے ہیں اور اپنی نشریات پیش کررہے ہیں، وہاں اپنے صارفین کو بہتر خدمات مہیا کرسکیں۔‘‘