.

حزب اللہ یورپ بھر میں کیمیاوی مواد کے ڈھیر لگارہی ہے:امریکی عہدہ دار کا انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ یورپ بھر میں اسی کیمیاوی دھماکا خیزمواد کے ڈھیر لگا رہی ہے ، جس کے پھٹنے کے نتیجے میں چار اگست کو بیروت کی بندرگاہ پر زوردار تباہ کن دھماکا ہوا تھا۔

حزب اللہ کی اس سرگرمی کا انکشاف امریکا کے رابطہ کار برائے انسدادِ دہشت گردی ناتھن سیلز نے جمعرات کے روز صحافیوں سے گفتگو میں کیا ہے۔انھوں نے کہا ہے کہ لبنان کے تمام مسائل کا سبب حزب اللہ ہی ہے اور یورپی یونین کو اس تمام گروپ کو دہشت گرد قرار دینا چاہیے۔

انھوں نے بتایا ہے کہ لبنانی ملیشیا 2012ء کے بعد سے یورپ میں ابتدائی امداد کی کٹوں کے نام پر امونیم نائٹریٹ کو منتقل کررہی ہے۔ بیروت کی بندرگاہ پر واقع ایک گودام میں امونیم نائٹریٹ کی ستائیس سو ٹن مقدار کے پھٹنے سے زوردار دھماکا ہوا تھا جس نے شہر کے ایک تہائی حصے میں تباہی پھیلا دی تھی۔

جوناتھن سیلز نے فون کال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’میں یہ انکشاف کرسکتا ہوں،امونیم نائٹریٹ کے تھیلوں کو بیلجیئم سے فرانس ، یونان ، اٹلی ، اسپین اور سوئٹزرلینڈ منتقل کیا گیا ہے۔میں یہ بھی انکشاف کرسکتا ہوں کہ فرانس ، یونان اور اٹلی میں امونیم نائٹریٹ کی قابل ذکر مقدار کو برآمد کرکے ضائع کیا گیا ہے۔اس بنیاد پر یہ یقین کیا جاسکتا ہے کہ یہ سرگرمی ابھی تک جاری ہے۔‘‘

ان کا کہنا تھا:’’یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ حزب اللہ امریکا کے یورپی اتحادیوں کے لیے خطرہ ہے۔اسی وجہ سے ہم دوسرے ممالک سے یہ مطالبہ کررہے ہیں کہ وہ حزب اللہ کو دہشت گرد گروپ قرار دیں۔ نیز یورپی یونین اپنے 2013ء کے فیصلے پر نظرثانی کرے اور اس کے صرف عسکری ونگ ہی کو دہشت گرد قرار نہ دے بلکہ تمام تنظیم کو کالعدم قرار دے۔‘‘

لبنان کا مسئلہ حزب اللہ ہے!

جوناتھن سیلز نے دعویٰ کیا کہ لبنان کے تمام مسئلوں کی جڑ،بنیاد حزب اللہ ہی ہے۔ان کے بہ قول ان مسائل کا حل یہ ہے کہ ’’حزب اللہ کوئی سیاسی جماعت نہیں بلکہ ایک دہشت گرد تنظیم ہے، یہ دنیا بھر میں لوگوں کا خون بہاتی ہے اور یہ تہران میں بیٹھے اپنے آقاؤں کے آلہ کار کے طور پر کام کرتی ہے۔‘‘

انھوں نے اپنی اس ٹیلی فونک کانفرنس میں یورپی یونین سے اس مطالبے کا اعادہ کیا ہے کہ وہ حزب اللہ کو مکمل طور پر دہشت گرد قرار دے۔ یورپی یونین اس لبنانی تنظیم کے سیاسی اور عسکری ونگ میں تفریق کرتی ہے اور اس نے عسکری ونگ کو تو دہشت گرد قرار دے رکھا ہے لیکن سیاسی ونگ کو نہیں۔

اس یورپی بلاک کا اہم ملک فرانس لبنان کو درپیش مالی ، اقتصادی اور سیاسی بحرانوں سے نکالنے کے لیے کوششوں کی قیادت کررہا ہے۔تاہم وہ لبنان کی مختلف سیاسی جماعتوں کے ساتھ اپنی جاری بات چیت کے ضمن میں حزب اللہ سے بھی رابطے کررہا ہے۔

مگر مسٹر جوناتھن سیلز فرانس کے اس طرزعمل سے خوش نہیں۔ان کا کہنا ہے:’’ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہمارے درمیان لبنان کو بحران سے نکالنے کے طریق کار کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے اور کہ یہ کہ وہاں نئی حکومت کی تشکیل کا مقصد کیسے حاصل ہوگا۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ ’’فرانس کی حزب اللہ سے معاملہ کاری سے صرف اس کو قانونی تقویت ملے گی۔اس طرح اس کو تسلیم کر لیا جائے گا لیکن درحقیقت وہ ایک دہشت گرد تنظیم ہے۔‘‘