.

سوئٹزر لینڈ:الخلیفی کے خلاف مقدمے کی سماعت،العربیہ کے رپورٹرکو کیوں ہراساں کیا گیا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوئٹزر لینڈ میں قطر کی معروف کاروباری شخصیت ناصر الخلیفی کے خلاف بدعنوانی کے مقدمے کی سماعت کی براہ راست کوریج کے دوران میں دو افراد نے العربیہ کے نمایندے کو ہراساں کیا ہے۔

العربیہ کے نمایندے نورالدین فریضی منگل کے روز قطری بی ان میڈیا گروپ کے سربراہ ناصر الخلیفی کے خلاف مقدمے کی کارروائی کی براہ راست رپورٹنگ کررہے تھے۔ اس دوران میں دو افراد ان کے سامنے آگئے اور انھیں بالکل غیرمہذب جارحانہ انداز میں روکنے کی کوشش کی۔ ان کے ساتھ گذشتہ ہفتے بھی ایسا معاملہ پیش آیا تھا۔

اس کے بعد سیاہ چشمے پہنے ایک اور نامعلوم شخص نمایندے کے نزدیک آگیا اور فون پکڑ کر امیر قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی کی تصویر دکھانے کی کوشش کی۔

نورالدین فریضی نے بتایا ہے کہ انھوں نے اس شخص کو گذشتہ ہفتے ناصرالخلیفی کی گاڑی میں بیٹھے ہوئے دیکھا تھا اور وہ ان کے مصاحبین میں سے ایک ہے۔وہ گذشتہ ہفتے بھی عدالت میں مقدمے کی سماعت کے وقت آیا تھا۔

ویڈیو میں ایک پولیس افسر کواس شخص سے گفتگو کرتے ہوئے دیکھاجا سکتا ہے۔پولیس افسر اس کو ٹیلی ویژن کے عملہ کے قریب سے پیچھے ہٹنے کا کہہ رہا ہے۔

فریضی کی العربیہ پر لائیو رپورٹنگ کے دوران میں ایک اور شخص کو ان کی تصاویر بناتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

واضح رہے کہ ناصر الخلیفی کے خلاف سوئٹزر لینڈ کی ایک فوجداری عدالت میں فٹ بال کے عالمی مقابلوں کے نشریاتی حقوق کی تقسیم کے معاملے میں بدعنوانیوں پر مقدمہ چلایا جارہا ہے۔ان کے علاوہ فیفا کے سابق سیکریٹری جنرل جیروم والک کے خلاف گذشتہ ہفتے فیفا عالمی کپ ٹورنا منٹ کے نشریاتی حقوق سے متعلق کرپشن کے مقدمے کی فرد جرم عاید کی گئی تھی۔

سوئس پراسیکیوٹرز نے فٹ بال کی عالمی فیڈریشن تنظیم (فیفا) کے سابق جنرل سیکریٹری جیروم والک اور بی اِن میڈیا گروپ کے چیئرمین ناصرالخلیفی پر فیفا کے عالمی کپ مقابلوں اور کنفیڈریشن کپ فٹ بال ٹورنا منٹوں کے نشریاتی حقوق دینے کے معاملات میں بدعنوانیوں کے الزامات پرقصور وار قراردے کر فردِ جرم عاید کی تھی۔

سوئٹزرلینڈ کے اٹارنی جنرل کے دفتر کے مطابق والک پر رشوت وصول کرنے ،مجرمانہ بد انتظامی اور دستاویزات میں جعل سازی کے الزامات ہیں۔۔الخلیفی اور ایک اور نامعلوم شخص پر والک کو مجرمانہ بدانتظامی پر اکسانے کے الزام میں فرد جرم عاید کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ چیمپئن لیگ کا فائنل میچ کھیلنے والی پیرس کی سینٹ جرمین کلب کے صدر ناصر الخلیفی پر 2026ء اور 2030ء میں ہونے والے فٹ بال عالمی کپ کے میچوں کے ٹیلی ویژن حقوق بھاری رقوم کے عوض آگے دوسری کمپنیوں کو بیچنے کے الزام کی تحقیقات کی گئی ہے۔ ان کے خلاف جن میڈیا حقوق کی بابت تحقیقات کی گئی ہے،یہ مشرقِ اوسط اور مغربی زون سے متعلق ہیں اور ان ممالک میں بی اِن میڈیاگروپ کے ساتھ مقابلے میں کوئی اور گروپ شریک نہیں تھا۔

ان کے خلاف 2018ء اور 2022ء میں ہونے والے فٹ بال عالمی کپ کے مقابلوں کی میزبانی کے حقوق دینے کے لیے نیلامی کے موقع پر فیفا کے ارکان میں رقوم اور بیش قیمت تحائف بانٹنے کا بھی الزام عاید کیا گیا تھا۔

چھیالیس سالہ ناصرالخلیفی کے خلاف چار ممالک میں فٹ بال کی عالمی فیڈریشن (فیفا) کے سابق سیکرٹری جنرل جیروم والک کو لاکھوں ڈالرز رشوت دے کر فٹ بال مقابلوں کے بیش قیمت میڈیا حقوق حاصل کرنے کے الزام میں تحقیقات کی گئی ہے۔اطالوی پولیس کے مطابق انھوں نے مبیّنہ طور پر اٹلی کے علاقے سردینیا میں واقع 70 لاکھ یورو مالیت کا اپنا ایک وِلاجیروم والک کو استعمال کے لیے دیا تھا۔