.

امریکا میں اسمارٹ گھڑی اور انگوٹھی کے ذریعے کرونا کی نشاندہی کا تجربہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اس وقت پوری دنیا میں ایک ملین کے قریب لوگوں کو ہلاک کرنے والی وبا 'کرونا' کی روک تھام ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت پوری دنیا میں اس وبا کی روک تھام اور اس کی نشاندہی کے لیے تجربات کیے جا رہے ہیں۔

امریکا میں جہاں 'کوویڈ -19' کے انسداد کے لیے ویکیسن کے تجربات جاری ہیں وہیں ماہرین نے اسمارٹ واچ اور ایک رِنگ سسٹم کا تجربہ کررہی ہے جن کی مدد سے کسی بھی شخص میں کرونا کی علامات کے ظہور سے دو دن قبل ہی بیماری کا پتا چلایا جاسکے گا۔

اس منصوبے کو 'ریپڈ تھریٹ انیلیسز' یا آر ای ٹی کہا جاتا ہے ۔ اس میں "گارمن اور آورا" ڈیوائسز استعمال ہوتی ہیں جو پروگرام اور مصنوعی ذہانت سے آراستہ ہیں۔ 'ڈیلی میل' کے مطابق ان ڈیوائسز کی مدد سے کرونا وائرس اور دیگر بیماریوں کے تقریبا 250 ڈھائی ہزار کیسز کو ترتیب دیا گیا۔

یہ نظام اگلے 48 گھنٹوں کے اندر ایک سے 100 تک پیمانہ استعمال کرکے اس گھڑی یا انگوٹھی کے استعمال کنندہ بیماری کی علامات ظاہر کرسکتا ہے۔

امریکا کے عسکری عہدیداروں نے تصدیق کی کہ جانچ شروع ہونے کے دو ہفتوں کے اندر ہمیں کامیابی سے کرونا کا پہلا کیس سامنے آیا۔ اس تجربے کوعملی شکل دینے میں "RET" کو ڈیفنس انوویشن یونٹ (ڈی آئی یو) نے ڈیفنس تھریٹ ریڈکشن ایجنسی (ڈی ٹی آر اے) اور فلپس ہیلتھ کیئر سنٹر کا تعاون بھی حاصل رہا ہے۔

اس سسٹم کا اعلان پہلے 2019 میں 18 ماہ کے منصوبے کے طور پر کیا گیا تھا اور اس کے بعد اسے ایک نئے الگورتھم کے ساتھ اپ ڈیٹ کیا گیا ہے جس کو فلپس کے بڑے پیمانے پر مریضوں کے ڈیٹا بیس کے ساتھ تربیت دیا گیا۔ اس نظام میں استعمال ہونےوالی اسمارٹ گھڑی اور رنگ نے محفوظ ڈیٹا کلاؤڈ پر بھیجنے سے پہلے 165 اہم علامات کا پتہ لگایا ہے۔

سمارٹ واچ تیار کرنے والے محققین نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ جن لوگوں کو کرونا کا سامنا ہوتا ہے وہ علامات ظاہر ہونے سے پہلے ہی اپنے جسم میں معمولی تبدیلیاں محسوس کرتے ہیں مگر یہ گھڑی اور انگوٹھی انہیں ان تبدیلیوں کے دوران کوڈ 19 کی علامات کے بارے میں بتا سکتی ہیں۔

شمالی امریکا میں چیف میڈیکل آفیسر اور ہیڈ آف فلپس ریسرچ ، ڈاکٹر جو فراسیکا نے کہا کہ ہم کرونا کی روک تھام کے نئے اعداد و شمار حاصل کرنے کے لیےجدید ٹیکنالوجی کا استعمال جاری رکھیں گے۔ ہم مستقبل قریب میں اس ڈیوائس کے الگورتھم کو بہتر بنانے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ ہمیں امید ہے کہ اس سے ہمیں شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے کا نیا موقع ملے گا۔