.

فلسطینی کازجائزلیکن وکیل ناکام،اسرائیلی کازغیرمنصفانہ مگر وکیل کامیاب: شہزادہ بندر

حالیہ دنوں میں فلسطینی قیادت سے جو کچھ سنا، وہ فی الواقع بہت تکلیف دہ اور افسوس ناک ہے: العربیہ سے خصوصی انٹرویو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے امریکا میں سابق سفیر اور سابق انٹیلی جنس چیف شہزادہ بندر بن سلطان نے کہا ہے کہ ’’ فلسطینی کاز ایک جائز اور منصفانہ نصب العین ہے لیکن اس کے وکیل ناکامی سے دوچار ہوئے ہیں۔اسرائیلی کاز ایک غیرمنصفانہ نصب العین ہے مگر اس کے وکیل کامیاب ٹھہرے ہیں۔گذشتہ 70 ، 75 سال کے دوران میں رونما ہونے والے واقعات کی یہ تاریخ ہے۔‘‘

انھوں نے ان خیالات کا اظہار العربیہ سے ایک خصوصی انٹرویو میں کیا ہے۔ان کا یہ انٹرویو سوموار کو نشر کیا جائے گا۔شہزادہ بندر بن سلطان سعودی انٹیلی جنس ایجنسی کے 2012ء سے 2014ء تک ڈائریکٹر رہے تھے۔وہ 2005ء سے 2015ء تک سعودی عرب کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ رہے تھے۔

اس سے پہلے وہ مسلسل بیس سال تک واشنگٹن میں سعودی عرب کے سفیر تعینات رہے تھے۔ان کے پے درپے برسراقتدارآنے والے امریکی صدور سے خصوصی مراسم استوار تھے اور انھیں بالخصوص سابق صدر جارج ڈبلیو بش کا خاندانی دوست قرار دیا جاتا تھا۔

شہزادہ بندر نے العربیہ سے اس خصوصی انٹرویو میں سعودی عرب کے فلسطینی نصب العین کے بارے میں تاریخی مؤقف اور دوسرے امور کے حوالے سے تفصیل سے اپنے نقطہ نظر کا اظہار کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’’فلسطینی قیادت تاریخی طور پر ناکام رہی ہے۔اس کی ناکامیوں کا یہ سفر ہنوز جاری ہے۔‘‘انھوں نے اس ضمن میں فلسطینی قیادت کی متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان امن معاہدے کے ردِّ عمل میں خلیجی ریاستوں اور ان کی قیادت پر تنقید کا حوالہ دیا ہے۔

انھوں نے کہا:’’میں نے حالیہ دنوں میں فلسطینی قیادت سے جو کچھ سنا ہے، وہ فی الواقع بہت ہی تکلیف دہ اور افسوس ناک ہے۔اس نچلی سطح کے بیانیے کی ہم ان عہدے داروں سے بالکل بھی توقع نہیں کرتے ہیں جو عالمی حمایت کے حصول کے خواہاں ہیں۔ان کا خلیجی ریاستوں کی قیادت کے بارے میں معاندانہ ناروا رویہ بالکل ناقابل قبول ہے۔‘‘

شہزادہ بندر نے واشنگٹن میں اپنی تعیناتی کے دوران میں بعض خفیہ رازوں ،دو طرفہ سفارتی تعلقات کے گوشوں اور مرحوم یاسرعرفات سمیت فلسطینی قیادت کے کردار کے بارے میں تفصیل سے گفتگو کی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ فلسطینی قیادت عرب ، اسرائیل امن معاہدے میں ناکام رہی ہے۔

ان کا یہ انٹرویو تین حصوں میں نشر کیا جائے گا۔العربیہ انگلش سے اس کے پہلے حصے کو انگریزی زبان میں مکمل متن کے ساتھ سوموار کی شب سعودی عرب کے مقامی وقت کے مطابق رات نو بجے (شام 6 بجے جی ایم ٹی) نشر کیا جائے گا۔