.

سعودی عرب فلسطینی کاز کی حمایت کرتا ہے،اس کے لیڈروں کی نہیں: شہزادہ بندر بن سلطان

فلسطینی قیادت نے عرب دنیا پر ترکی اور ایران کو ترجیح دی،سعودی عرب کو اپنے مفادات پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے سابق انٹیلی جنس چیف اور امریکا میں سابق سفیر شہزادہ بندر بن سلطان نے کہا ہے کہ ان کا ملک فلسطینی کاز کی حمایت کرتا ہے لیکن اس کے لیڈروں کی نہیں۔ نیزاس کو اپنے مفادات پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔

شہزادہ بندر نے العربیہ سے خصوصی انٹرویو کے تیسرے حصے میں مسئلہ فلسطین کے مختلف پہلوؤں پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔انھوں نے کہا:’’ میری ذاتی رائے میں دنیا بھر میں اس وقت جو واقعات رونما ہورہے ہیں،ان میں ہم ایک ایسے اسٹیج پر ہیں کہ ہمیں فلسطینی نصب العین کے لیے اسرائیلی چیلنجز سے نبردآزما ہونے سے متعلق تشویش میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس کے بجائے ہمیں اپنے قومی سلامتی کے مفادات پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔‘‘

انھوں نے فلسطینیوں کے موجودہ لیڈروں کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے ایران اور ترکی کا اپنے اتحادی کے طور پر انتخاب کیا ہے اور ان دونوں کو اپنے روایتی اتحادی عرب ممالک پر ترجیح دی ہے۔

شہزادہ بندر نے کہا:’’اب پکچر میں نئے کھلاڑی آچکے ہیں، وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ فلسطینی نصب العین کی خدمت کررہے ہیں اور یہ ان کی ترجیح ہے۔یروشلیم ان کا پہلا مقصد ہے۔‘‘

انھوں نے اپنی اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’’ یہ ممالک ایران اور ترکی ہیں۔ فلسطینی لیڈر تہران اور انقرہ کو الریاض ، کویت ، ابوظبی ، دبئی ، منامہ ،عَمان ، مسقط اور قاہرہ سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔‘‘

واضح رہے کہ ایرانی حکومت 1979ء کے انقلاب کے بعد سے ملک میں ہر سال رمضان المبارک کے آخری جمعہ کو یوم القدس مناتی ہے۔اس موقع پر فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یک جہتی کیا جاتا ہے۔ دوسری جانب ترک صدر رجب طیب ایردوآن مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کے قبضے سے آزاد کرانے کے عزم کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔

شہزادہ بندر نے اپنی گفتگو میں سعودی عرب کی جانب سے فلسطین کی حمایت کا اعادہ کیا ہے لیکن یہ بھی واضح کیا ہے کہ ان کے خیال میں فلسطینی قیادت فلسطینی کاز کی حقیقی نمایندہ نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’’فلسطینی لیڈر سعودی عرب کی اپنے کاز کے لیے حمایت سے انکاری ہیں لیکن اس سے فلسطینی عوام کے نصب العین سے ہماری وابستگی پر کوئی اثر نہیں پڑے گا مگر ان لوگوں (فلسطینی لیڈروں) پر اعتماد کرنا مشکل ہے اور ان کے ہوتے ہوئے فلسطینی کاز کے لیے کچھ بھی نہیں کیا جاسکتا۔‘‘

فلسطینی قیادت کی تاریخی ناکامی

شہزادہ بندر اپنے اس انٹرویو کے پہلے دو حصوں میں تفصیل سے یہ واضح کرچکے ہیں کہ فلسطینی قیادت کیسے تنازع کے حل میں ناکام رہی ہے اورمرحوم فلسطینی لیڈر یاسرعرفات کی قیادت میں تنظیم آزادیِ فلسطین (پی ایل او) 1970ء اور 1980ء کے عشروں میں واشنگٹن میں امن ڈیل کو طے کرنے میں ناکام رہی تھی اور اس نے ایک طرح سے سعودی عرب کو مایوس کیا تھا۔

انھوں نے اس انٹرویو میں کئی ایک انکشافات کیے ہیں اور بتایا ہے کہ کیسے یاسعرفات نے 1993ء میں تو اوسلو معاہدے پر دست خط کر دیے تھے لیکن اس سے پہلے اس سے ملتے جلتے معاہدوں کو انھوں نے مسترد کردیا تھا اور اس کے بعد 2000ء میں کیمپ ڈیوڈ میں امن معاہدے پر دست خط سے انکار کردیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’’اس ناکامی پر تو میں چلّانا چاہتا تھا،میرا دل جل رہا تھا کہ کیسے ایک مرتبہ پھر موقع کو ضائع کردیا گیا ہے اور شاید یہ آخری موقع تھا جو ضائع کردیا گیا تھا۔اس کا منظر ایسا تھا کہ جیسے میں کوئی فلم دیکھ رہا ہوں۔‘‘

امریکا میں سابق سعودی سفیر کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کے شاہ عبداللہ مرحوم کا ولی عہد کی حیثیت سے رواں صدی کے اوائل میں پیش کردہ امن اقدام ثمربار ہونے کو تھا لیکن امریکا پر 11 ستمبر 2001ء کو دہشت گردی کے حملوں کے بعد تبدیل شدہ صورت حال نے اس کو آخری منٹ میں سبوتاژ کردیا تھا۔

شہزادہ بندر بن سلطان سعودی انٹیلی جنس ایجنسی کے 2012ء سے 2014ء تک ڈائریکٹر جنرل رہے تھے۔وہ 2005ء سے 2015ء تک سعودی عرب کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ رہے تھے۔اس سے پہلے وہ مسلسل اکیس سال (1983ء سے 2005ء) تک واشنگٹن میں سعودی عرب کے سفیر تعینات رہے تھے۔اس دوران میں برسراقتدار آنے والے امریکی صدور سے ان کے خصوصی مراسم استوار تھے اور انھیں بالخصوص سابق صدر جارج ڈبلیو بش کا خاندانی دوست قرار دیا جاتا تھا۔