.

سعودی عرب چین اور نیدرلینڈزکے بعد دنیا کا تیسرا خوش ترین ملک قرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب 2020ء میں دنیا کے پُرمسرت ممالک کا جائزہ لینے کے لیے کیے گئے ایک عالمی سروے میں چین اور نیدرلینڈز کے بعد دنیا کا تیسرا خوش ترین ملک قرار پایا ہے۔

یہ سروے فرانس میں قائم مارکیٹ ریسرچ کمپنی آئی پی ایس او ایس نے کیا ہے۔اس میں دنیا کے 27 ممالک میں خوشیوں کی سطح کی جانچ کی گئی ہے۔چین اور نیدرلینڈز میں ہر10 میں سے نو افراد نے خود کو ’بہت‘ یا ’قدرے‘ خوش قرار دیا ہے جبکہ سعودی عرب میں ہر 10 میں سے آٹھ افراد نے خود کو خوش قرار دیا ہے۔

سعودی عرب کے بعد فرانس ، کینیڈا ، آسٹریلیا ، برطانیہ ، سویڈن ، جرمنی اور بیلجیئم بالترتیب چار سے دس نمبر تک دنیا کے خوش ممالک ہیں۔امریکا اس درجہ بندی میں گیارھویں نمبر پر ہے اور اس کے ہر 10 میں سے سات شہریوں نے بتایا ہے کہ وہ ’بہت‘ یا ’قدرے‘ خوش ہیں۔دنیا کے خوش ممالک کی اس درجہ بندی میں اسپین ، چلّی اور پیرو سب سے نیچے ہیں۔

اس سروے کے نتائج میں آبادی کے تناسب کے اعتبار سے خوش افراد کی بھی درجہ بندی کی گئی ہے۔اس ضمن میں سعودی عرب کے 30 فی صد بالغ افراد نے خود کو سب سے زیادہ خوش قرار دیا ہے۔اس کے بعد بھارت میں 22 فی صد اور نیدرلینڈز میں بھی 22 فی صد بالغ افراد سب سے زیادہ خوش بتائے گئے ہیں۔

دنیا کے خوش ممالک کی اس درجہ بندی میں مشرق اوسط کا صرف ایک اور ملک شامل ہے اور وہ ترکی ہے۔ وہ خوشیوں کی مجموعی سطح میں سترھویں نمبرپر ہے۔

آئی پی ایس او ایس نے کرونا وائرس کی وَبا کے دوران میں 24 جولائی سے سات اگست تک یہ سروے کیا تھا۔اس میں شامل ہر ملک سے تعلق رکھنے والے 1000 سے زیادہ افراد سے ایک آن لائن سروے پلیٹ فارم کے ذریعے سوالات کے جواب دینے کے لیے کہا گیا تھا۔

سروے کے مطابق تمام 27 ممالک میں ہر 10 میں سے چھے افراد نے خود کو خوش قرار دیا ہے۔فرانسیسی کمپنی نے اپنے اس سروے کے نتائج کا گذشتہ سال کے سروے کے نتائج سے موازنہ کیا ہے اور یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ دنیا بھر میں پھیلنے والی کرونا وائرس کی وَبا کے باوجود عالمی سطح پر خوشیوں کی سطح میں کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوئی ہے بلکہ بعض ممالک میں خوشیوں کی سطح بلند ہوئی ہے۔ان میں چین ، روس ، اٹلی اور ملائشیا شامل ہیں۔

خوشیوں کی سطح میں سب سے زیادہ کمی براعظم جنوبی امریکا سے تعلق رکھنے والے دوممالک پیرو اور چلّی میں ریکارڈ کی گئی ہے۔پیرو میں 2019ء کے بعد خوشیوں کی شرح میں 26 فی صد اور چلّی میں 15 فی صد کمی واقع ہوئی ہے۔

حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس سروے میں حصہ لینے والے تمام 27 ممالک کے شرکاء نے دھن اور دولت کو اپنی خوشیوں کا بڑا سبب قرار نہیں دیا ہے بلکہ ان کا کہنا ہے کہ ان کی جسمانی صحت اور تن درستی ان کی خوشی کا سب سے بڑا سبب ہے۔

اس کے بعد خاوند اور بیوی کا باہمی مؤدت کا رشتہ اور بچّوں سے تعلقات شرکاء کی خوشی کا دوسرا بڑا سبب قرار پائے ہیں۔سعودی عرب میں جن افراد سے سروے کہا گیا تھا، ان کا کہنا تھا کہ مذہب ان کی خوشی کا سب سے بڑا منبع اور ذریعہ ہے۔اس کے بعد صحت اور جسمانی طور پر توانا ہونا، ذاتی سلامتی اور تحفظ اور بچّوں کے ساتھ ان کے تعلقات ان کی خوشیوں کے بڑے ذرائع ہیں۔

سعودی عرب سمیت سروے میں شامل تمام ممالک کے شرکاء کے نزدیک سوشل میڈیا پر صرف شدہ وقت ان کے لیے خوشیوں کا کوئی بڑا ذریعہ نہیں ہے۔