.

بے ریاست: مقبوضہ القدس کے فلسطینی مکینوں کو خلیج، اسرائیل تعلقات سے کیا فائدہ ہو گا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جب مقبوضہ بیت المقدس (یروشلیم) کے 31 سالہ مکین عامر سے ان کی شناخت کے بارے میں دریافت کیا گیا تو انھوں نے اپنا اسرائیلی شناختی کارڈ نکالا اور دکھا دیا۔ انھیں جب کبھی کسی بین الاقوامی سفر پر جانا پڑتا ہے تو وہ اردن کا جاری کردہ عارضی پاسپورٹ استعمال کرتے ہیں لیکن جب ان سے ان کی شناخت کے بارے میں پوچھا جاتا ہے تو وہ یہ جواب دیتے ہیں کہ وہ اسرائیلی ہیں اور نہ اردنی۔

عامر نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا:’’ میں ایک فلسطینی ہوں۔اگرچہ میرے پاس فلسطینی شناختی کارڈ یا پاسپورٹ نہیں ، پھر بھی میں فلسطینی ہوں۔میرا خاندان فلسطینی ہے۔غربِ اردن میں میرے رشتے دار اور دوست مقیم ہیں۔‘‘

عامر مشرقی القدس میں رہتے ہیں۔اسرائیل نے یروشلیم کے اس حصے پر 1967ء کی عرب ،اسرائیل جنگ میں قبضہ کرلیا تھا اور اس کے بعد اس کو صہیونی ریاست میں ضم کرلیا تھا۔اس وقت اسرائیلی حکومت نے اس شہر کے باسی فلسطینیوں کو مکین کا درجہ دے دیا تھا اور انھیں شہریت نہیں دی تھی۔

اس فیصلے کے نتیجے میں آج مقبوضہ بیت المقدس میں آباد قریباً تین لاکھ 60 ہزار فلسطینیوں کی زندگیاں مختلف مسائل اور پیچیدگیوں سے دوچار ہیں۔مستقل اقامتی درجے کی وجہ سے یہ فلسطینی اپنے ہی آبائی شہر میں رہ تو سکتے ہیں لیکن ان سے غیرملکی تارکین وطن کا سا سلوک کیا جاتا ہے۔وہ اپنے قومی انتخابات میں ووٹ نہیں دے سکتے اور اسرائیلی حکومت یروشلیم کے دوسرے شہریوں کے مقابلے میں ان کے لیے انفرااسٹرکچر اور تعلیمی نظام پر بہت کم رقوم خرچ کرتی ہے۔

اسرائیل ماضی میں مشرقی القدس کے مکینوں کو اسرائیلی شہریت کے حصول کے لیے درخواست دینے کی پیش کش کرتا رہا ہے لیکن تاریخی طور پر ان میں سے بیشتر فلسطینیوں نے اسرائیل کی اس پیش کش کو ٹھکرا دیا ہے کیونکہ وہ مشرقی القدس کو مستقبل میں قائم ہونے والی آزاد فلسطینی ریاست کا دارالحکومت بنانا چاہتے ہیں۔

اسرائیل کی تنظیم برائے شہری حقوق کی ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت مشرقی القدس میں آباد تمام فلسطینی خاندانوں میں سے 72 فی صد غُربت کی لکیر سے نیچے کی زندگی گزار رہے ہیں۔یروشلیم کی ڈپٹی میئراسرائیلی سیاست دان فلیور حسان نحوم نے دعویٰ کیا ہے کہ ’’اب یو اے ای اور اسرائیل کے درمیان طے شدہ امن معاہدے کے نتیجے میں مشرقی القدس کے مکین فلسطینیوں کی زندگیاں تبدیل ہوں گی۔‘‘

مشرقی القدس میں خلیج کی ممکنہ سرمایہ کاری

اسرائیل کے متحدہ عرب امارات اور بحرین کے ساتھ معمول کے تعلقات استوار ہونے کے بعد مشرقی القدس میں خلیج کی سرمایہ کاری کے امکانات پیدا ہوگئے ہیں اور اس سے فلسطینیوں کو براہِ راست فائدہ پہنچے گا۔

فلیور حسان نحوم نے العربیہ سے انٹرویو میں کہا کہ ’’یروشلیم کے عربوں کو اسرائیل اور خلیج کے درمیان معمول کے تعلقات استوار ہونے سے کئی طریقوں سے فائدہ پہنچے گا۔یو اے ای نے مشرقی یروشلیم میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔‘‘

وہ شہر کی ڈپٹی میئر کی حیثیت سے یو اے ای، اسرائیل بزنس کونسل میں مشرقی القدس میں سرمایہ کاری لانے کے لیے بھی قائدانہ کردار ادا کررہی ہیں۔وہ اس کونسل کی بانی رکن ہیں اور شہر میں عربوں کے لیے سلیکان وادی اور ایک صنعتی زون کے قیام کا ارادہ رکھتی ہیں۔

انھوں نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ’’خلیج کی جانب سے انفرااسٹرکچر اور روزگار کے لیے اضافی سرمایہ کاری سے مشرقی القدس میں آباد عربوں کی صورت حال میں تبدیلی رونما ہوگی۔اس سے غُربت کی زندگی گزارنے والی 70 فی صد آبادی کے حالات بہتر ہوں گے کیونکہ فی الوقت تو ان کی صورت حال ہرگز بھی قابلِ قبول نہیں ہے۔‘‘

اسرائیل کی لیکوڈ پارٹی سے تعلق رکھنے والی ڈپٹی میئر کا کہنا تھا کہ اس وقت شہر کے اس علاقے میں صحت عامہ اور ٹیکنالوجی دو ایسے شعبے ہیں جن میں ترقی کی بہت زیادہ گنجائش ہے۔ان کے بہ قول مشرقی یروشلیم میں عربی زبان بولنے والے تربیت یافتہ انجنیئر موجود ہے،اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ ہیں اور وہ جدت پسندی اور کاروبار کا جذبہ بھی رکھتے ہیں۔

نظرانداز شدہ

صدر محمودعباس اور ان کے زیر قیادت فلسطینی اتھارٹی سمیت فلسطینی قیادت نے اسرائیل اور خلیج کے درمیان معمول کے تعلقات کی بحالی کے لیے امن معاہدے کی مذمت کی تھی۔ان کا کہنا تھا کہ یو اے ای اور بحرین میں ان کے عرب بھائیوں نے انھیں نظرانداز کردیا اور تنہا چھوڑ دیا ہے۔

مگر مشرقی القدس میں مقیم فلسطینیوں کی اکثریت یہ محسوس کرتی ہے کہ انھیں تو خود فلسطینی اتھارٹی نے نظرانداز کررکھا ہے۔سیاسیات کے پروفیسر اور رام اللہ میں قائم فلسطینی مرکز برائے پالیسی اور سروے ریسرچ کے ڈائریکٹر خلیل شیکاکی کا کہنا ہے کہ ’’مشرقی القدس کے مکین فلسطینی یہ سوچ رکھتے ہیں کہ فلسطینی اتھارٹی ان کی مدد کے لیے کوئی خاطرخواہ اقدامات نہیں کررہی ہے۔اس لیے انھیں خود پر اور روزگار اور دوسری ضروریات کے لیے اسرائیلی مارکیٹوں پر انحصار کرنا ہوگا۔‘‘

پروفیسر شیکاکی کا کہنا تھا کہ ’’ان کے خیال میں اس تمام معاملے پر صرف فلسطینی اتھارٹی ہی کو مورد الزام نہیں ٹھہرایا جانا چاہیے بلکہ یہ یروشلیم اور غرب اردن کے درمیان اسرائیل کی تعمیر کردہ علاحدگی کی دیوار ہے جس کو تمام مسائل کا الزام دیا جانا چاہیے۔‘‘

انھوں نے کہا کہ ’’اگر مشرقی القدس میں فلسطینیوں کے لیے سرمایہ کاری کی جاتی ہے تو اس سے انھیں فائدہ پہنچے گا۔‘‘ جبکہ شہر کے مکین بعض فلسطینیوں نے اسرائیل کی شرکت سے شروع کیے جانے والے سرمایہ کاری کے مجوزہ منصوبوں کے بارے میں اپنے شکوک کا اظہار کیا ہے۔

تاہم فلیورحسان کا کہنا ہے کہ ان کا کوئی خفیہ ایجنڈا نہیں ہے۔وہ خود مشرقی القدس کی ترقی کے لیے سرمایہ کاری کے منصوبوں کو مہمیز دے رہی ہیں۔

پروفیسر شیکاکی نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’مشرقی القدس کے مکین فلسطینیوں کو ان شکوک پر کوئی مورد الزام نہیں ٹھہرا سکتا کیونکہ ان سے گذشتہ برسوں کے دوران میں لاتعداد خالی خولی وعدے کیے گئے ہیں مگر ماضی میں کبھی انھیں عملی جامہ پہنانے کی نوبت نہیں آئی ہے۔‘‘