.

خواتین مردوں کی نسبت زیادہ معروضی خصوصیات کی حامل ہوتی ہیں: سائنسی تحقیق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پرانی کہاوتوں میں خواتین کو صنف نازک اور جنس لطیف قرار دیا گیا تھا اور آج کی سائنس بھی خواتین کی ان نزاکتوں کو تجربات اور مشاہدات کے ذریعے ثابت کر رہی ہے۔

برطانوی اخبار'ٹائمز'میں شائع ہونے والی ایک سائنسی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ خواتین مردوں کی نسبت زیادہ اخلاقی خوبیوں کی مالک ہوتی ہیں۔ وہ مردوں کی نسبت دوسروں کے ساتھ زیادہ شفقت اور حسن اخلاق سے پیش آتی ہیں۔

اخباری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مردوں کی نسبت خواتین زیادہ معروضی خصوصیات کی حامل ہوتی ہیں۔ خواتین کی خوبی ان کی خوبصورتی ہی نہیں بلکہ مردون کی نسبت نرم مزاجی بھی ان کا خاصہ ہوتی ہے۔ سائنسی مطالعےسے معلوم ہوتا ہے کہ خواتین دوسروں کےساتھ حسن سلوک کے معاملے میں زیادہ حساس ہوتی ہیں۔ اگرانہیں کوئی اذیت نہ پہنچائے تو وہ حتی الامکان دوسرے کو اذیت دینے سے گریز کرتی ہیں۔

اس سائنسی مطالعے کے دوران 67 ممالک میں 330،000 سے زیادہ افراد کے اخلاقی رویوں کا جائزہ لیا گیا۔ مطالعے کے نتائج سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ عورتیں مردوں کے مقابلے میں اخلاص ، مہربانی اور اخلاقی پاکیزگی کی خوبیوں کے حوالے سے زیادہ فکر مند رہتی ہیں۔

تحقیق میں کہا گیا ہے کہ جن معاشروں میں خواتین اور مردوں کے درمیان نسبتا زیادہ مساوات پائی جاتی ہے وہاں مردوں کے مقابلے میں خواتین کی اخلاقی خوبیاں مردوں کی نسبت زیادہ ہوتی ہیں۔

یہ ریسرچ جنوبی کیلیفورنیا کی سازرن یونیورسٹی کے زیراہتمام کی گئی جسے سائنسی جریدے 'Proceedings of the Royal Society B' شائع کیا گیا۔ سروے کے دوران دونوں صنفوں سے مختلف نوعیت کے سوالات پوچھے گئے۔ مثال کے طور پر یہ سوال پوچھا گیا کہ سب سے بُرا کون ہے۔ وہ جو بے وفا ہے یا جو ہمدردی کے جذبات کی کمی کا شکار ہے۔

سروے کے دوران پتا چلا کہ نگہداشت ، اخلاص اور "اخلاقی پاکیزگی" جیسی خوبیاں مردوں میں‌کم اور خواتین میں زیادہ ہیں۔

تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اظہار رائے کی آزادی انسانی اخلاق پر اثرات مرتب کرتی ہے۔ جہاں آزادی اظہار رائے موجود ہے وہاں پر خواتین اور مردوں کے درمیان اختلاف کی زیادہ توقع کی جاسکتی ہے۔ وہاں خواتین اپنے فیصلوں اور آرا کا آزادانہ اظہار کر سکتی ہیں۔