.

انبیا کی توہین دہشت گردوں کی خدمت ہے: کبائر علماء کونسل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی کبائر علما کونسل کا کہنا ہے کہ انبیاء کی توہین کا فائدہ صرف دہشت گردوں کو پہنچتا ہے کو معاشروں میں نفرت پھیلانا چاہتے ہیں۔

سعودی عرب کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’’ایس پی اے‘‘ نے علماء کونسل کے اتوار کے روز جاری کردہ بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’’دنیا بھر کے عقل مند لوگوں کو ایسی توہین کی مذمت کرنا چاہیے۔ اس کا آزادی فکر اور اظہار سے کوئی لینا دینا نہیں۔ ایسی توہین کا ارتکاب صرف اور صرف تعصب اور انتہا پشندوں کی مفت میں مدد ہے۔‘‘

کبائر علماء کونسل نے یہ بات زور دے کر کہی کہ اسلام اللہ کے تمام پیغمبروں کی توہین سے اجنتاب کا درس دیتا ہے۔

یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا جب فرانس کے ایک سکول میں بنی آخر الزمان کے خاکے بنانے پر اظہار آزادی کا تنازع کھڑا ہوا۔ اس سکول کا ایک استاد قتل ہوا تھا جس کے مشتبہ قاتل کو فرانسیسی صدر عمانویل ماکروں نے ’’اسلام پسند‘‘ قرار دیا تھا۔

ماکروں نے جنہیں ’’اسلام پسند‘‘ قرار دیا، ان پر بعد میں کڑی تنقید کی اور پھر حضرت محمد ﷺ کے خاکے بنانے کے فعل کا دفاع بھی کیا۔

یہ تمام صورتحال پیرس کے قریب گذشتہ ہفتے ایک استاد کے سر قلم کیے جانے کے واقعے کے بعد سامنے آئی۔ مقتول استاد نے اپنی کلاس میں اظہار آزادی پر بات کرتے ہوئے مسلماںوں کے آخری نبی کے خاکے دکھائے۔ عمانویل ماکروں نے ایک بیان میں مقتول استاد کو ’’اسلامی دہشت گرد حملے کا شکار‘‘ قرار دیا تھا۔

گذشتہ ہفتے مقتول استاد کے اعزاز میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فرانسیسی صدر نے کہا کہ ’’ہم خاکے بنانا ترک نہیں کریں گے۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’’وہ [استاد] اس لیے قتل کیا گیا، کہ اسلامسٹ ہمارا مستقبل لینا چاہتے ہیں۔‘‘ انھوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ’’وہ [اسلامسٹ] ایسا کرنے میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکیں گے۔‘‘

اس واقعہ نے مذاہب کے احترام سے متعلق بحث چھیڑ دی ہے، جس کے بعد مسلم دنیا کے کئی راہنماؤں نے اس جرم کی مذمت کرتے ہوئے انبیاء کے احترام پر زور دیا ہے۔