سعودی عرب کے شمالی پہاڑوں میں موجود غاریں قدرت کا حسین شاہکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کے شمال مغرب میں واقع پہاڑی سلسلہ جو بحر احمر کے ساحل کے بالمقابل اور السروال پہاڑوں کے ساتھ ساتھ پھیلا ہوا ہے، اپنی منفرد اور قدرتی غاروں کی بدولت

سیاحوں کی توجہ کا خاص مرکز رہتا ہے۔ سنہرے ریتلے رنگوں سے قدرتی طور پر بنے ان پہاڑوں کو قدرت کا ایک شاہکار سمجھا جاتا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق تبوک کے علاقے میں ان پہاڑوں کے درمیان ایک جگہ کا نام 'زینہ' ہے جو غاروں اور آبشاروں کی وجہ سے مشہور ہے۔ بارش کے موسم میں یہاں کی آبشاریں چل پڑتی ہیں اور سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنتی ہیں۔

ایک مقامی سعودی فوٹو گرافر فواز الحربی نے ان پہاڑوں اور ان کی خوبصورت غاروں کے مناظر کو اپنے کیمرے میں محفوظ کیا ہے۔ یہ جادوئی مناظر دیکھنے والوں کی نظروں کو خیرہ کردیتے ہیں۔

الزینہ پہاڑی سلسلہ سطح سمندر سے 500 سے 1000 میٹر کی بلندی پر واقع ہے۔ اس پہاڑے سلسلے میں متعدد پہاڑی چوٹیاں ہیں جو طولا اور عرضا مختلف زایوں میں پھیلی ہوئی ہیں۔ ان میں کئی ایک تاریخی اور حیرت انگیز غاریں پائی جاتی ہیں۔ ان پہاڑوں کے قدرتی حسن کی بدولت سیاح اور محققین یہاں کچھے چلے آتے ہیں۔ اس پہاڑی سلسلے کا مرکزی مقام 'جبل الوز کہلاتا ہے جو 2580 میٹر بلندی پر واقع ہے۔ اس کے علاوہ کوہ المظلہ، کوہ القطار اور غار اسمر اس کے مشہور مقامات ہیں۔

شمالی البترا میں تہذیب کی باقیات اور پہاڑوں پر کندہ کی گئی عبارتوں کے آثار ملتے ہیں۔ مصیون، ابو عجل اور علقان گائوں یہاں کے تاریخی اورثقافتی اہمیت کے حامل مقامات ہیں۔

فوٹو گرافر الحربی کا کہنا ہے کہ الزینہ پہاڑوں کی چوٹیاں ،چٹانیں، غاریں اور ان کا سرخی مائل رنگ بہت دلکش ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں