.

’جبری مشقت؛برطانیہ کے بڑے برانڈز چینی صوبہ سنکیانگ سے درآمدہ فیشن ملبوسات نہ بیچیں‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانوی پارلیمان کے ارکان نے گیپ اور زارا ایسے بڑے برانڈز سے کہا ہے کہ وہ چین کے مسلم اکثریتی صوبہ سنکیانگ سے حاصل کردہ کپاس کے خام مال سے تیارشدہ فیشن ملبوسات اور دیگرمصنوعات کو فروخت نہ کریں۔

برطانوی پارلیمان کی ایک کمیٹی نے کوئی درجن بھر فیشن برانڈز سے اس امر کی وضاحت طلب کی ہے کہ وہ سنکیانگ میں تیارشدہ ملبوسات خرید کرنے کے عمل میں غلامی کی جدید شکل سے کیسے نمٹ رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کے تخمینے کے مطابق چین کے اس مسلم اکثریتی صوبہ میں کم سے کم دس لاکھ یغور اور دوسرے مسلمانوں کو کیمپوں میں رکھاجارہا ہے اور ان سے وہاں جبری مشقت لی جارہی ہے۔

آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والے ایک تھنک ٹینک کا کہنا ہے کہ ہزاروں یغوروں اور دوسرے مسلمانوں کو چین بھر کے مختلف علاقوں میں منتقل کردیا گیا ہے، وہ وہاں فیکٹریوں میں کام کرتے ہیں اور عالمی برانڈز کو مہیا کیا جانے والا مال تیار کرتے ہیں۔

چین ان الزامات کی تردید کرتا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ ان کیمپوں میں پیشہ ورانہ تربیت دی جاتی ہے اور ان سے دہشت گردی اور انتہاپسندی سے نمٹنے میں مدد مل رہی ہے۔

برطانیہ کے بیشتر برانڈز کا کہنا ہے کہ ان کی سنکیانگ میں کام کرنے والی فیکٹریوں سے کوئی کاروباری تعلق داری نہیں۔البتہ ان کی رسد میں یغوروں کی چُنی ہوئی کپاس سے تیار کردہ سامان شامل ہوسکتا ہے۔یہ کپاس چین کے دوسرے علاقوں میں بھیجی جاتی ہے اور وہاں اس سے کپڑا اور ملبوسات تیار ہوتے ہیں۔

واضح رہے کہ چین کی 80 فی صد کپاس جنوب مغربی صوبہ سنکیانگ ہی میں پیدا ہوتی ہے۔ یہاں قریباً ایک کروڑ دس لاکھ یغور نسل کے مسلمان آباد ہیں۔

برطانوی پارلیمان کی صنعتی ، تجارتی اور توانائی کمیٹی کو ایک تحریری جواب میں گیپ اور زارا سمیت بیشتر برانڈز نے اپنے کپاس کے ذریعے کے بارے میں کوئی واضح جواب نہیں دیا ہے اور یہ کہا ہے کہ وہ اپنی رسدی زنجیر (سپلائی چین) کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

ایک برانڈ ایم اینڈ ایم کا کہنا ہے کہ کپاس کے منبع کا مکمل سراغ لگانے کے لیے ’’کوئی حل دستیاب‘‘نہیں ہے جبکہ فیشن لیبل اسٹیلا میکارٹنی نے کہا ہے کہ خام مال کا سراغ لگانا انتہائی مشکل امر ہے۔

غلامی کی جدید شکل کے خلاف تحریک چلانے والی تنظیموں نے برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان تمام برانڈز کواپنے اپنے ملبوسات کی کپاس کے اصل ماخذ کے بارے میں مکمل معلومات فراہم کرنے کا پابند بنائے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان برانڈز کے یغور مسلمانوں کے انسانی حقوق کی پامالی اور ان سے جبری مشقت لینے سے متعلق لاعلمی کے دعوے میں کوئی صداقت نہیں۔

واضح رہے کہ برطانیہ میں 2015ء میں منظورشدہ جدید غلامی ایکٹ کے تحت تمام بڑے کاروبار اپنی سالانہ رپورٹوں میں جبری مشقت اور غلامی کے خاتمے کے لیے کاوشوں کی تفصیل فراہم کرنے کے پابند ہیں لیکن اگر کوئی کاروباری ادارہ اس میں ناکام رہتا ہے تو اس پر کوئی سزا مقرر نہیں ہے۔