.

سعودی عرب: ریٹائرڈ بریگیڈیئر نے ریستوران میں ککنگ کیوں شروع کی؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عام خیال ہے کہ فوج سے ریٹائرمنٹ لینے والے سینیر افسران معمولی نوعیت کی کسی مصروفیت سے خود کو دور رکھتے ہیں مگر سعودی عرب کے ایک بریگیڈیئر نے ملازمت سے ریٹائرمنٹ کے بعد ایک ریستوران میں روایتی اور دیسی پکوان تیار کر کے گاہکوں‌ کو پیش کرنا شروع کیے ہیں جو کہ ایک منفرد مثال ہے۔

سوشل میڈیا پر وائرل کچھ تصاویر اور ویڈیوز میں سعودی عرب کے علاقے حائل سے تعلق رکھنے والے بریگیڈیئر عبداللہ علی العامر کو ایک ریستوران میں ککنگ کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔

العربیہ ڈاٹ‌ نے بریگیڈیئر ریٹائرڈ العامر سے اس کے ککنگ کے شوق کے بارے میں بات کی۔ انہوں‌نے کہا کہ 'یہ نوجوانوں کے لئے ایک پیغام ہے۔ سول ڈیفنس میں ایک بریگیڈیئر کے عہدے دے سے ریٹائرمنٹ کے بعد میں نے اپنا ہوٹل بنایا۔ یہ میرے لیے بہت اہم ہے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد انسان کو سیکھنے اور کچھ نیا کام کرنے کا موقع ملتا ہے۔ یہ کوئی غلط کام نہیں۔ ریٹائرمنٹ کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ ہار مانیں اور افسردگی کے مرحلے میں داخل ہوجائیں۔

ریٹائرڈ بریگیڈیئر عبد اللہ علی العامر نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ میں نے کئی سال حائل میں سول ڈیفنس سیکٹر میں اپنے ملک کی خدمت میں گزارے اور ریٹائرمنٹ کے بعد میں اپنے ریستوران میں خواتین اور جوانوں کے ایک گروپ کے ساتھ کام کرتا ہوں۔ ریٹائرمنٹ کے بعد کام تخلیقی صلاحیتوں اور ایک نئے مرحلے کا موقع ملتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں تصورات کو درست کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ہر انسان جو کام کرنا پسند کرے کرسکے۔ وہ لوگ ہیں جو زراعت اور دیگر شعبوں سے محبت کرتے ہیں اور اپنے اور اپنے ملک کے لیے کام کرسکتے ہیں۔ ملازمت سے دور رہ کر مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے لیے تمام ذرائع کھلے ہیں۔ وقت بدل گیا ہے اور میں نوجوانوں کو کھانا پکانے کی مہارت کی تربیت دینے کے لیے تیار ہے۔

ریٹائرڈ العامر نے کنگ فہد سیکیورٹی کالج سےتعلیم حاصل کرنے کے بعد لیفٹیننٹ کے عہدے کے پر فوج میں ملازمت شروع کی تھی اور انہوں‌نے مسلح افواج میں 30 سال خدمات انجام دیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ککنگ کی تربیت ان کی ماں نے انہیں دی تھی اور وہ روایتی کھانے بنانے کے ماہر ہیں۔