.

سعودی عرب میں قبل از تاریخ انسانی آباد کاری کی باقیات دریافت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں ماہرین آثار قدیمہ نے ایک ایسی بستی کا پتا چلایا ہے جس کے بارے میں مارین کا کہنا ہے کہ پتھر کے دور میں وہاں پر پہلی انسانی آباد کاری ہوئی تھی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سعودی عرب کے آثار قدیمہ کے ماہر اور فوٹو گرافر عبدالالہ الفارس نے بتایا کہ سعودی عرب کی سرزمین پر موجود ایک ریزورٹ میں پائی جانے والی اس بستی کے شواہد، آثار قدیمہ، نقوش کے مطالعہ اور مستند تاریخی مصادر سے پتا چلتا ہے کہ 'کلوہ' نامی یہ بستی قبل از تاریخ میں اس علاقے میں پہلی انسانی آباد کاری تھی۔

انہوں‌ نے بتایا کہ 'کلوہ' نامی یہ تاریخی بستی شاہ سلمان ریزورٹ کے اندر واقع ہے جو تبوک شہر کے شمال مشرق میں 280 کلو میٹر کی مسافت پر واقع ہے۔ یہاں تک طبرجل اور تبوک کو ملانے والے راستے کے ذریعے پہنچا جاسکتا ہے۔

خیال رہے کہ 'شاہ سلمان ریزورٹ' ایک قدرتی مقام ہے جو تین دوسرے ایسے ہی قدرتی مقامات پر واقع ہے۔ یہاں پر واقع تین دیگر مقامات میں الخنفہ، الطبیق اور حرۃ الحرہ ہیں۔ یہ تینوں سعودی عرب کی کل چھ میں سے بڑی تین سیر گاہیں کہلاتی ہیں جو ایک لاکھ 30 ہزار 700 کلو میٹر پر پھیلی ہوئی ہیں۔

ان تاریخی مقامات میں پتھر کے دور کی انسانی آبادی کاری اور تہذیب و تمدن کی نشانیاں پائی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ تاریخ کے مختلف مراحل جن میں بعد از تاریخ، قبل از اسلام، زمانہ جاھلیت اور بعد ازا اسلام کی انسانی تہذیب وتمدن کی نشانیاں موجود ہیں‌۔ یہی تاریخی علامتیں اور نشانیاں سعودی عرب کی سر زمین کو خطے میں تاریخی اور تہذیبی حوالوں سے ممتاز مقام دلاتی ہیں۔

سنہ 1428ھ اور 1429ھ کے دوران فرانسیسی ماہرین آثار قدیمہ کو 'کلوہ' سے پرانے دور کے کھدائی کے آلات، برتن اور دیگر استعمال کی چیزیں ملی تھیں جو یہاں پر انسانی تاریخ سے قبل کی انسانی آباد کاری کا وجود ثابت کرتی ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں سعودی ماہر آثار قدیمہ نے بتایا کہ کلوہ میں پرانے دور کے پتھروں پر نقش کاری کے آثار بھی ملتے ہیں جن کی سائنسی بنیادوں پر کی گئی تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ یہ انسانی تاریخ کے ابتدائی دور کی علامتیں ہوسکتی ہیں۔ یہاں پر موجود ایک تصویر 7 میٹر لمبی ہے جب کہ انسانوں اور حیوانوں کی تصاویر بھی موجود ہیں۔

سنہ 1932ء‌کو برطانوی ماہر آثارقدیمہ اگنیس ہورسفیلڈ اور امریکی ماہر نیلسن گلوک نے یہاں کی چٹانوں پر پائی جانے والی نقش کاری کو النطوفیہ زمانئ یا Epi Palaes Lithie دور کے قریبی زمانے کی علامات قرار دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ مذکورہ دور 9 ہزار سے 7 ہزار سال قبل مسیح پایا جاتا ہے۔

نہ 1984ء‌کو آثار قدیمہ کونسل کی طرف سے پتھروں پر نقش کاری اور قبل از تاریخ 313 مقامات کی نشاندہی کی تھی جن میں سے بعض 15 ہزار قبل مسیح تک اپنا وجود رکھتے ہیں۔