.

خوبصورت مرجانی چٹانوں سے مالا مال سعودی ساحل کے دلفریب نظارے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے علاقے تبوک میں الواجہ گورنری کے ساحلی علاقے کئی حوالوں سے سیاحوں اور زائرین کی توجہ کا مرکز رہتے ہیں۔ الواجہ گورنری کے شمال میں واقع 'المکسیر' کا علاقہ اپنے خوبصورت اور کرشماتی ساحل کی وجہ سے شہرت رکھتا ہے۔

اس ساحل کے قریب سمندر خوبصورت مرجانی چٹانوں سے مالا مال ہے جنہیں دیکھنے سیاحوں کے ھجوم کی آمد ورفت جاری رہتی ہے۔ بحر احمر کے ساحل کے قریب یہ علاقہ نہ صرف مرجانی چٹانوں کی بدولت سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہے بلکہ یہاں‌ پر سیاح کشتی رانی کرتے ہیں اور ماہی گیر وہاں پر مچھلیوں‌ شکار سے فایدہ اٹھاتے ہیں۔

سعودی فوٹو گرافر محمد الشریف نے المکسیر کے ساحلی علاقوں کی تصاویر کا ایک مجموعہ تیار کیا ہے جس میں سے کچھ تصاویر العربیہ ڈاٹ‌ نیٹ پر بھی شائع کی گئی ہیں۔

محمد الشریف نے المکسیر کے ساحل کی تصاویر حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ العربیہ ڈاٹ‌ نیٹ سے اس سیاحتی مقام کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی۔ اس نے بتایا کہ شہر کی ہنگامہ آرائی سے دور المکسیر کا ساحل سیاحوں کو آرام کے لیے پر سکون ماحول فراہم کرتا ہے۔ اس کے علاوہ ماہی گیری کے شوقین افراد مچھلیوں‌ کے شکار کا شوق بھی پورا کرتے ہیں۔

الشریف کا کہنا تھا کہ وہ المکسیر کے ساحل کے قدرتی جمالیاتی حسن سے بہت متاثر ہوا۔ اس کا کہنا تھا کہ مورخین اور جغرافیا دان بھی الواجہ گورنری کو ایک ایسی طلمساتی حسن کا مقام قرار دیتے ہیں جس کی خوبصورتی نے ہمیشہ لوگوں کو اپنی طرف مائل کیے رکھا۔

الشریف نے کہا کہ الوجہ شہر کی ایک لمبی تاریخ ہے۔ اس میں کئی تاریخی اور ماضی کی یادگاریں موجود ہیں۔ انہیں یہاں کے بااسیوں کے آبائو اجداد نے تعمیر کیا اور ان کی آنے والی نسلیں اپنے اس قومی ورثے کی بہ خوبی حفاظت کر رہی ہیں۔

موجودہ سعودی دور حکومت میں الوجہ شہر نے تمام شعبوں میں خوب ترقی کی۔ جہاں تک اس کی 'الوجہ' کے نام کی وجہ تسمیہ کا تعلق ہے تو اس کے بارے میں مورخین کی مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ الوجہ مصر، افریقا ، مراکش اور دوسرے ملکوں سے سمندر اور خشکی کے راستے حجاز مقدس آمد کا راستہ تھا اور اسی مقام سے غیرملکی تاجر اور عازمین حج حجاز میں داخل ہوتے تھے۔

اس کےعلاوہ الوجہ کے کئی دوسرے نام بھی مشہور ہیں۔ جن میں الوشن، الوش، الوشاشہ اور الوجہ بندرگاہ جیسے نام شامل ہیں۔