.

کروناوائرس: سری لنکا میں مسلم نومولود کی میّت زبردستی جلانے پر سخت احتجاج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سری لنکا میں ایک مسلم نومولود کی میّت کو دفن کرنے کی اجازت دینے کے بجائے جلانے پر اقلیتوں اور انسانی حقوق کے گروپوں نے سخت ردِّعمل کا اظہار کیا ہے۔وہ کرونا وائرس کا شکار ہوکر مرنے والوں کی تدفین پر پابندی کے خلاف احتجاج کررہے ہیں۔

سری لنکا میں سنہالی بدھ مت مذہب کے پیروکار اپنے مردوں کی چتا کو جلاتے ہیں لیکن مسلمان اور عیسائی اپنے مردوں کو سپرد خاک کرتے ہیں۔اسلام میں لاش کی بے حرمتی اور جلانے کی ممانعت ہے اور لاش جلانے کا عمل میّت کی توہین قراردیا جاتا ہے۔

لیکن سری لنکا کی حکومت نے اپریل میں ایک قانون نافذ کیا تھا جس کے تحت کووِڈ-19 کا شکار ہونے والے تمام افراد کی لاشوں کو بلا تمیز جلانا لازمی قرار دے دیا گیا تھا اور ان کی تدفین پر پابندی عاید کردی گئی تھی۔

سری لنکا دنیا کا واحد ملک ہے جہاں عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی سفارشات کے برعکس اس طرح کا قانون نافذ العمل ہے جبکہ اس ادارے نے کرونا وائرس سے مرنے والوں کی تدفین کی ہدایت کی تھی۔مسلم گروپوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس متنازع قانون پر کڑی نکتہ چینی کی تھی۔

سری لنکا کے دارالحکومت کولمبو میں گذشتہ ہفتے اس قانون کے تحت بیس دن کے نومولود محمد شیخ کی میت کو جلا دیا گیا تھا۔وہ انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں زیرعلاج تھا اور مبیّنہ طورپر کرونا وائرس کی وجہ سے وفات پا گیا تھا۔

اس بچے کی لاش کو اس کے والدین کی رضامندی کے بغیر جلایا گیا تھا۔اس کے والد محمد فہیم نے العربیہ کو بتایا کہ’’ بچے نے جس شام وفات پائی ،انھوں (اسپتال کے عملہ) نے ہمیں بتایا کہ ہمارے بیٹے کا کووِڈ-19 کا ٹیسٹ مثبت تھا۔یہ اینٹی جین ٹیسٹ کے ذریعے پتا چلایا گیا تھا۔انھوں نے ہمیں کہا کہ اس کی لاش جلانے کی اجازت دینے کے لیے فارم پر دست خط کردیں۔اس پر ہم نے نومولود کے اضافی پی سی آر ٹیسٹ کا مطالبہ کیا تاکہ اس کی کرونا وائرس سے موت کی حقیقت کا پتا چل سکے مگر انھوں نے اس سے انکار کردیا۔''

فہیم گزربسر کے لیے تین پہیّوں والی ٹیکسی چلاتے ہیں۔ان کے پاس پی سی آر کا پرائیوٹ ٹیسٹ کرانے کے لیے نوہزار (50 ڈالر) سری لنکن روپے نہیں تھے۔چناں چہ انھوں نے اسپتال کے عملہ کو بتایا کہ وہ یہ رقم جمع کرلیتے ہیں اور پھر ٹیسٹ کرالیں گے۔اس کے نتائج زیادہ قابل اعتبار ہوں گے۔

لیکن اگلی صبح جب فہیم اس ٹیسٹ کے لیے رقوم اکٹھی کررہا تھا تو ان کے گھر میں اسپتال سے بچے کا ڈیتھ سرٹی فیکیٹ موصول ہوا اور انھیں مطلع کیا گیا کہ اس کی میّت کو مردہ خانے جلانے کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔

فہیم کاکہنا تھا کہ ’’میرے بچے کی میّت عجلت میں کیوں مردہ خانے بھیج دی گئی تھی۔‘‘تاہم اسپتال کے ایک ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ اس کی میّت کوئی بھی لینے کے لیے نہیں آیا تھا،اس لیے اس کو مردہ خانے بھیج دیا گیا جبکہ فہیم نے اس دعوے کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ ’’یہ سب جھوٹ ہے۔‘‘

واضح رہے کہ مذکورہ متنازع قانون کے خلاف بعض سیاسی جماعتوں ، وکلاء ، اسلامی تنظیموں اور تمام عقائد کے پیروکار افراد نے سپریم کورٹ میں رٹ درخواستیں دائر کی تھیں لیکن سری لنکا کی سپریم کورٹ نے مسلم اور عیسائی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے 11 متاثرہ خاندانوں کی جانب سے دائرکردہ کیس کو خارج کردیا تھا۔

سری لنکا کی حکومت نے سوموار کو یہ اعلان کیا تھا کہ اگر مسلمان پر اپنے مُردوں کی تدفین چاہتے ہیں تو وہ انھیں اس مقصد کے لیے مالدیپ لے جاسکتے ہیں لیکن انسانی حقوق کے کارکنوں نے حکومت کے اس اعلان کو مسترد کردیا ہے۔

متنازع قانون کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائرکرنے والے انسانی حقوق کے کارکن شرین سرُور کا کہنا ہے کہ ’’ہم سری لنکا کے شہری ہیں۔ہمارے آباء واجداد یہیں پیدا ہوئے اور یہیں صدیوں سے آباد چلے آرہے ہیں تو پھر ہم اپنے مُردوں کو دفنانے کے لیے بیرون ملک کیوں لے جائیں۔‘‘

سری لنکا میں کووِڈ-19 کے مرض میں مبتلا ہوکر وفات پانے والوں کی میّتوں کو جلانے کے قانون کے خلاف سنجیدہ اور اعتدال پسند بدھ مت حلقے بھی آواز اٹھا رہے ہیں اور انھوں نے بھی مسلمانوں اور عیسائیوں کے ساتھ اس معاملے میں یک جہتی کا اظہار کیا ہے اور وہ حکومت کے اقدام کے خلاف پُرامن احتجاج کررہے ہیں۔