.

کووِڈ-19 کی ویکسین حلال ہے یا حرام؟ مذہبی طبقات تحفظات کا شکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دنیا بھر میں پھیلنے والے کرونا وائرس کے علاج کے لیے تیار کردہ ویکسینوں کے بارے میں مذہبی طبقات اپنے تحفظات کا اظہار کررہے ہیں۔ان کاکہنا ہے کہ اس کی تیاری میں سؤر کی جیلی (جیلیٹین) استعمال کی جارہی ہے،اس لیے یہ حرام ہےاور اس کو لگوانے سے گریز کیا جائے۔ان مذہبی طبقات میں مسلم اور یہود دونوں شامل ہیں۔

مسلم اکثریتی ملک انڈونیشیا سے تعلق رکھنے والے علماء نے بالخصوص کووِڈ-19 کی ویکسینوں کے بارے میں اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔انھوں نے اکتوبر میں انڈونیشی سفارت کاروں کے ساتھ چین کا دورہ بھی کیا تھا۔انڈونیشی سفارت کارتو چین سے ویکسین کی لاکھوں خوراکیں خریدکرنے کے سودے کو حتمی شکل دینے کے لیے گئے تھے لیکن علماء کے دورے کا مقصد اس امر کا جائزہ لینا تھا کہ آیا چین کی تیارکردہ ویکسینوں کا شریعت اسلامی کی رو سے استعمال جائز بھی ہے۔

چین ، امریکا اور برطانیہ سمیت بعض ممالک کی دواساز کمپنیوں نے کرونا وائرس کی ویکسینیں تیار کی ہیں۔ان میں سے امریکا کی کمپنی فائزر کی جرمن کمپنی بائیو این ٹیک کے اشتراک سے تیار کردہ ویکسین کو بعض ممالک میں لگانے کا آغاز ہوچکا ہے جبکہ بعض دوسری کمپنیوں کی ویکسینیں کلینیکی جانچ کے آخری مرحلے میں ہیں۔

ان ویکسینوں کی تیاری میں سؤر کی مصنوعات کے استعمال سے متعلق مذہبی گروپوں نے بعض سوالات اٹھائے ہیں اور اس کے نتیجے میں ان ویکسینوں کو لگانے کی مہم متاثر ہوسکتی ہے۔

واضح رہے کہ سؤر کے گوشت سے حاصل کردہ جیلیٹین کا ویکسین کو محفوظ رکھنے کے لیے استعمال عام ہے تاکہ وہ ذخیرہ کرنے اور حمل ونقل کے دوران میں محفوظ رہے۔
بعض کمپنیوں نے سؤر کے گوشت سے حاصل کردہ جیلیٹین سے پاک ویکسین تیار کرنے کی کوشش کی ہے۔سوئٹزرلینڈ کی دوا ساز کمپنی نوارتیس نے اس سے پاک ایک ویکسین تیار کی ہے۔ سعودی عرب اور ملائشیا کی اے جے فارما بھی ایسی ایک ویکسین تیار کررہی ہے۔

لیکن برطانوی اسلامی میڈیکل ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری ڈاکٹر سلمان وقار کا کہنا ہے کہ سؤر کی جیلیٹین کی مانگ میں کمی واقع نہیں ہوگی کیونکہ جن ویکسینوں میں یہ مواد شامل نہیں ہوگا،ان کی مدت استعمال تھوڑی ہوگی۔نیز وہ حمل ونقل کے دوران میں خراب ہوسکتی ہیں۔

فائزر ، ماڈرنا اور آسٹرا زینیکا کے ترجمان حضرات یہ کہہ چکے ہیں کہ ان کی تیار کردہ کووِڈ-19 کی ویکسینوں میں سؤر کے گوشت سے بنی مصنوعات کو شامل نہیں کیا گیا ہے لیکن فی الوقت ان کمپنیوں کی مسلم ممالک کو مہیا کی جانے والی ویکسین کی کھیپوں کے ساتھ جیلیٹین کے عدم استعمال کا سرٹی فیکیٹ شامل نہیں ہوگا۔

مسلمانوں کے علاوہ آرتھو ڈکس یہود بھی سؤر کے گوشت سے بنی مصنوعات کو استعمال نہیں کرتے ہیں اور انھیں ناپاک اور حرام سمجھا جاتا ہے۔

سڈنی یونیورسٹی کے پروفیسر ہارون الرشید کا کہنا ہے کہ سؤر کی جیلیٹین کے استعمال کے بارے میں ماضی کے مباحث کے بعد اکثریت نے اس بات سے اتفاق کیا تھا کہ اگر کسی مرض کے جان لیوا ہونے کا خطرہ ہوتو اس بڑے نقصان سے بچنے کے لیے جیلیٹین استعمال کی جاسکتی ہے۔

اسرائیل کے آرتھوڈکس یہود کی کمیونٹی کے مذہبی لیڈروں نے بھی اس بات سے اتفاق کیا تھا کہ ’’سؤر کے گوشت کا اسی صورت میں استعمال حرام ہے،اگر اس کو محض گوشت کے طورپر براہ راست مُنھ سے کھایا جائے لیکن اگر اس سے کوئی دعا یا ویکسین بنا لی جاتی ہے یا ان کی تیاری میں اس کا استعمال کیا جاتا ہے تو پھر اس ویکسین کا استعمال درست ہوگا۔

اسرائیل میں یہودی ربیوں کی ایک تنظیم کے چیئرمین ربی ڈیوڈ اسٹاف کا کہنا ہے کہ ’’اگر ایسی ویکسین کو جسم میں انجیکشن کے ذریعے داخل کیا جائے اور مُنھ کے ذریعے کھایا نہ جائے تو اس کی اجازت ہے۔‘‘

واضح رہے کہ 2018ء میں انڈونیشیا میں کسی چیز کے حلال یا حرام ہونے کے بارے میں تصدیقی سرٹی فیکیٹ جاری کرنے کی ذمے دار علماء کونسل نے یہ فتویٰ دیا تھا کہ خسرے کی ویکسینیں جیلیٹین کے استعمال کی وجہ سے حرام ہیں۔

اس کے بعد مذہبی علماء نے والدین پر زوردیا تھا کہ وہ یہ ویکسین اپنے بچوں کو نہ لگوائیں۔چناں چہ اس کے بعد انڈونیشیا میں خسرے کے کیسوں کی تعداد میں اضافہ شروع ہوگیا تھا اور اس وقت وہ اس کے کیسوں کی شرح کے اعتبار سے دنیا میں تیسرے نمبر پر ہے۔اس کے بعد علماء نے ایک اور فتویٰ جاری کیا تھا اور اس میں ویکسین کے استعمال کو جائز قرار دیا تھا مگر والدین بعض ثقافتی اور معاشرتی وجوہ کی بنا پر اپنے بچّوں کو ویکسین نہیں لگوا رہے ہیں۔

ملائشیا میں ویکسینوں کا حلال درجہ والدین کے لیے سب سے بڑا مسئلہ ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود مختلف دائمی امراض سے بچنے کے لیے والدین پر بچوں کو ویکسین لگانے کا پابند بنایا گیا ہے۔دوسری صورت میں انھیں جیل جانا پڑسکتا ہے۔

مسلم اکثریتی پاکستان میں بھی ویکسینوں کے بارے میں مذہبی وجوہ کی بنا پر اعتراضات کیے جاتے ہیں اور مذہبی اور سیاسی وجوہ کی بنا پر ویکسینوں کے استعمال کو درست نہیں سمجھاجاتاہے۔تاہم ملک میں پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے سے انکار کرنے والے والدین کو جیل کی سزا دی جاسکتی ہے۔

ڈاکٹر ہارون الرشید کا کہنا ہے کہ ’’عوام کے اعتماد کی بحالی کے لیے حکومتوں کا کردار نہایت اہم ہے،اور اگر معاشرتی طبقات کو کووِڈ –19 کی ویکسین لگانے کے عمل میں شرکت پر آمادہ نہیں کیاجاتا ہے تو پھر صورت حال بڑی تباہ کن ہوگی۔‘‘