.

سعودی عرب میں بڑی تعداد میں امام مساجد کی برطرفیاں

سبکدوش کیے جانے والے امام وزارت مذہبی امور کی ’تعلیمات‘ کی ترویج میں تساہل برت رہے تھے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی وزارت مذہبی امور نے ملک کے طول وعرض میں بڑی تعداد میں ان امام مسجدوں کو ملازمت سے سبکدوش کر دیا ہے جنہوں نے عوام کو الاخوان المسلمون سے متعلق خبردار کرنے سے متعلق وزارت کی ہدایات پر عمل درآمد میں سستی کا مظاہرہ کیا۔

مملکت کی وزارت اسلامی امور، دعوت اور ارشاد کے وزیر عبداللطیف بن العزیز آل الشیخ نے ’العربیہ‘ نیوز چینل سے بات کرتے ہوئے اس امر کی تصدیق کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزارت اپنے ماتحت کسی ملازم یا امام کو ملازمت سے نکالنا نہیں چاہتی، لیکن اس کے ساتھ ہم انہیں ان کے منصب کے تفاضوں سے آگاہ کرنا چاہتے ہیں۔

عبداللطیف بن العزیز آل الشیخ کے مطابق کئی اماموں کی ملازمت سے برطرفی کی خبریں درست ہیں۔ ان کی برطرفی کی وجہ بیان کرتے ہوئے وزیر مذہبی امور کا کہنا تھا کہ ملازمت سے نکالے جانے والے امام مسجد کبار علما کونسل کی طرف سے الاخوان المسلمون کی دہشت گردانہ سرگرمیوں کو خلاف اسلام قرار دینے سے متعلق فتوی کی ترویج میں تساہل سے کام لے رہے تھے۔

’’امام مساجد کی برطرفی کا یہ مطلب نہیں کہ سبکدوش کیے جانے والے اماموں کا تعلق الاخوان المسلمون سے تھا یا وہ ان کے نظریات کے حامی تھے، بلکہ وزارت کا فیصلہ انضباطی نوعیت کا تھا اور اسی لیے وزارت کے احکامات پر عمل نہ کرنے والے اماموں کو نوکری سے نکال کر ان کی جگہ ایسے افراد بھرتی کیے گئے ہیں جو وزارت کی ہدایت کو حقیقی روح کے ساتھ عوام الناس تک منبر کے توسط سے پھیلا سکیں۔‘‘

یاد رہے سعودی عرب نے 2014 میں الاخوان المسلمون کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا تھا۔

کثیر الاشاعت عرب اخبار ’’عکاظ‘‘ کے مطابق وزارت مذہبی امور، دعوت وارشاد اور وزارت بلدیات ودیہی امور مشترکہ اقدام کے ذریعے تمام بڑے کاروباری مراکز میں چلنے والی مسجدوں میں صرف سعودی قومیت کے حامل امام متعین کرنے کے منصوبہ پر کام کر رہے ہیں۔