.

سعودی عرب: ریٹائرڈ اسکول ماسٹر نے پہاڑ کی چوٹی پر'فش فارم' بنا لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں پرائمری اسکول کے ایک استاد نے 27 سال تدریسی خدمات انجام دینے اور ریٹائرمنٹ کے بعد ایک بالکل مختلف پیشہ اختیار کرکے لوگوں کو حیران کردیا۔

ریٹائرڈ پرائمری اسکول معلوم سعد آل زُھیر نے العربیہ ڈاٹ نیٹ‌ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اس نے السروات کے پہاڑوں کی چوٹی پر مچھلیوں کی پرورش کرنے اور کاروبار کے لیے 'فش فارم' کا منصوبہ تیار کیا۔ یہ منصوبہ وزارت ماحولیات، زراعت وآبی وسائل کے سامنے پیش کیا گیا۔

وزارت زراعت کی جانب سے مذکورہ علاقے میں ماہرین کی ٹیمیں روانہ کیں جنہوں نے اپنی رپورٹ سیکرٹری زراعت و ماحولیات ڈاکٹر علی الشیخی کو پیش کی۔ انہوں نے میرے اس منصوبے کی حوصلہ افزائی کی اور حکومت کی طرف سے ہر ممکن تعاون کی یقین دہائی بھی کرائی۔

ایک سوال کے جواب میں سعد آل زھیر نے کہا کہ السروات کے پہاڑوں کی بلندیوں پر یہ اپنی نوعیت کا پہلا فش فارم ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ جبال سروات کی چوٹیوں‌ پر فش فارم کے تجربے کو عسیر، سراتعبید اور دوسرے علاقوں میں بھی آزمانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں اس نے کہا کہ سروات کی بلند پر بنائے گئے فش فارم میں 'البلطی' مچھلی کی پرورش کی جاسکتی ہے تاہم بہت زیادہ ٹھنڈے پانی میں یہ مچھلی نہیں رہ سکتی۔ اس لیے لوگ آج تک وہاں پر فش فارمنگ نہیں کر سکے ہیں تاہم وزارت زراعت و ماحولیات کی طرف سے اسے مچھلیوں کےلیے بنائے گئے تالابوں کا پانی گرم کرنے کے لیے معاونت کی گئی ہے۔

الزھیر کا کہنا تھا کہ جبال سروات میں مرغی بانی کے ساتھ ساتھ مچھلی کے فارم کے وسیع امکانات اور مواقع موجود ہیں۔ جبال سروات کے ایک فش فارم سے سنہ 2030ء تک سالانہ 60 ہزار ٹن مچھلی تیار کرنے کا ہدف رکھتے ہیں۔ وہ اس منصوبے کو وادی بیش ڈیم کے قریب اور بحر الاحمر کے ساحل پربھی شروع کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

سعد آل زھیر نے انکشاف کیا کہ اس علاقے میں ماہانہ 8 سے 10 ٹن مچھلی تیار ہوسکتی ہے جب کہ سالانہ 400 ٹن کا ہدف حاصل کیا جاسکتا ہے۔ وہ اس سال 150 ٹن کا ہدف حاصل کرلیں‌ گے اور 2021 کے بعد سالانہ 400 ٹن مچھلیوں کا ٹارگٹ پورا کریں‌ گے۔

آل زھیر نے بتایا کہ سروات پہاڑی چوٹی پربنائے گئے فش فارم میں انڈے دینے والی مچھلیوں کو الگ رکھا جائے گا جس کے لیے 28 بڑے ٹینک بنائے گئے ہیں۔ اسی طرح چھوٹی مچھلیوں کے لیے 28ٹینک اور مچھلیوں کی پرورش اور انہیں فربہ بنانے کے لیے 56 میٹر لمبے، 9 میٹر چوڑے اور 2 میٹر گہرے 8 تالاب بنائے گئے ہیں۔