.

یواے ای میں یمن کے دوعشروں سے بچھڑے دو یہودی خاندانوں کا ملاپ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات میں یمن سے تعلق رکھنے والے دو یہودی خاندانوں کا کوئی دوعشرے کے بعد دوبارہ ملاپ ہوگیا ہے۔

ان دونوں خاندانوں کے افراد گذشتہ دس پندرہ سال سے یو اے ای ، یمن اور لندن میں رہ رہے تھے اور ان کے درمیان میل ملاقاتیں ختم ہوچکی تھیں۔ان میں بعض کو تو آپس میں بچھڑے ہوئے پندرہ سے اکیس سال ہوچکے تھے۔

ان میں ایک یہودی خاندان کے ارکان کی تعداد پندرہ ہے۔اس کے دادا ، دادی اور چچا یمن میں مقیم تھے اور وہاں سے سفر کرکے متحدہ عرب امارات پہنچے تھے جہاں ان کا خاندان کے دوسرے ارکان سے ملاپ ہوا ہے۔

اس خاندان سے تعلق رکھنے والے 35 سالہ اضحاک نے یو اے ای کی سرکاری خبررساں ایجنسی وام کو بتایا کہ وہ کم عمری میں یمن سے برطانیہ چلے گئے تھے اور تب سے ان کی ان کے چچا اور دادا دادی سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی تھی۔

انھوں نے جذباتی انداز میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ’’ان کی آخری مرتبہ بچپن میں اپنے خاندان کے بڑوں سے ملاقات ہوئی تھی اور اب یہ وقت آگیا ہے کہ وہ بھی پہلی مرتبہ (میرے بچوں) اپنے پڑپوتے ، پڑپوتیوں سے ملاقات کررہے ہیں۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ ’’آج یو اے ای نے میرے خاندان کے دوبارہ مل بیٹھنے کے خواب کو شرمندۂ تعبیر کیاہے۔انھیں اپنے خاندان سے بچھڑے 21 سال ہوچکے تھے اور انھیں دوبارہ ایک جگہ اکٹھے ہونے کی کوئی امید نہیں رہی تھی۔‘‘

ان کی والدہ لوسا فایز کا کہنا تھا کہ ’’ان کے خاندان کے دوبارہ اکٹھ سے ان کے گذشتہ 21 سال سے جاری مصائب کا بھی خاتمہ ہوگیا ہے۔‘‘

یمن سے تعلق رکھنے والا دوسرا یہودی خاندان پانچ ارکان پر مشتمل ہے۔اس کا پندرہ سال کی جدائی کے بعد دوبارہ ملاپ ہوا ہے۔اس خاندان کے سربراہ ہارون سالم ، ان کی اہلیہ اور دو بچّے یمن سے ہوائی سفر کے ذریعے یو اے ای پہنچے تھے۔ان کی امارت دبئی میں ان کے رشتے داروں سے ملاقات کرائی گئی ہے۔

ہارون سالم کا کہنا تھا کہ ’’خاندان کے دوبارہ ملاپ پر ان کے پاس یو اے ای کا شکریہ ادا کرنے کے لیے الفاظ نہیں ہیں۔ہم یہاں اپنے خاندان کے ارکان سے دوبارہ ملنے پر بہت خوش ہیں۔یو اے ای حقیقی معنوں میں محبت ، رواداری اور امن کا مادرِوطن ہے۔‘‘