.

قوت سماعت سے محروم پہلی سعودی طالبہ کا امریکی یونیورسٹی سے ماسٹر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی قوت سماعت سے محروم ایک ہونہار طالبہ نے امریکا کی ہاروڈ یونیورسٹی سے 'علم نفسیات'میں ایم اے کی ڈگری لے کر بہرے پن کے عارضے کا شکار افراد سمیت ہرشخص کے لیے ایک مثال قائم کی ہے۔
سعودی عرب سے تعلق رکھنے والی'الھنوف الحناکی' کے خاندان کا کہنا ہے کہ الحناکی ابھی 8 ماہ کی تھی جب ہم نے محسوس کیاکہ اس کی قوت سماعت ختم ہو رہی ہے۔ اس کے بعد اس کا جگہ جگہ علاج کرایا مگر اس عارضے سے صحت یاب نہیں ہوئی۔ تاہم اس کے باوجود الھنوف الحناکی نے اسکول میں بہترین کار کردگی کے ساتھ تعلیم جاری رکھی۔
اس کی خواہش تھی کہ وہ یونیورسٹی میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرے مگر کوئی یونیورسٹی اسے الھنوف الحناکی کو اس حالت میں قبول کرنے کو تیار نہیں تھی۔ اسے اپنے تعلیمی کیریئر کے ادھورے رہنے اور امنگوں کے کھو جانے کا خدشہ کھانے لگا مگر الحناکی نے ہمت نہیں ہاری۔ اس نے کوششیں جاری رکھیں۔ آخر کار اسے پتا چلا کہ امریکی شہر واشنگٹن میں واقع ہارورڈ یونیورسٹی بہرے پن کے شکار افراد کو داخلہ دیتی ہے۔
الھنوف الحناکی نے اپنی داستان 'العربیہ ڈاٹ نیٹ' کو اشاروں میں بیان کرتے کہا کہ اس نے الریاض میں قائم اکنامک کالج سے بہرے پن کے ساتھ گریجوایشن کی۔ یہاں میں‌ نے اکنامک کی تعلیم حاصل کی مگرمیں اس مضمون کے ساتھ آگے نہیں جاسکتی تھی۔ چنانچہ مجھے اپنا مضمون بدلنا پڑا۔ دوبارہ واپس جانے اور نئے سرے سے تیاری میرے لیے ایک صدمے کا باعث بنی مگر میں نے ہمت نہیں ہاری۔


الھنوف نے بتایا کہ مجھے معلوم ہوا کہ امریکا کی گیلائوڈیٹ یونیورسٹی بھی بہرے پن کے شکار طلبا کو تعلیم کے حصول کا موقع دیتی ہے۔ میں‌ نے اس میں اسکالرشپ کے ذریعے داخلے کی درخواست کی تو خوش قسمتی سے میرا وہاں‌ داخلہ ہوگیا۔ تاہم مجھے وہاں پر انگریزی زبان پڑھنا تھی۔ میں دو سال تک صبح 8 سے شام 5 بجے تک انسٹیٹوٹ جاتی۔ مجھے میٹرو بس میں سفر کرنا پڑتا۔ اس طرح مجھے آنے جانے میں دو گھنٹے لگ جاتے۔ دو سال کے دوران میں انگریزی زبان میں اشاروں کو بھی سمجھ گئی۔ اس یونیورسٹی میں دیگر طلبا وطالبات کےساتھ گھل مل گئی۔ یہاں تک کہ مجھے بہرےطلبا کی یونین کا سربراہ مقررکیا گیا۔ وہاں‌سے دو سال کے بعد میں‌ ورجینیا کی میسن یونیورسٹی میں داخلہ لیا۔


میسن یونیورسٹی نے مجھے دو مترجم فراہم کیےمگر یہاں‌پر میرے دوسرے ہم جماعت بہرے نہیں تھے۔ وہیں پر مجھے بہرے افراد کو اشاروں کے ذریعے سمجھانےوالے کلب میں شرکت کا موقع ملا۔ اسی دوران میں‌ نے ELS کا ٹیسٹ دیا جس میں میں کامیاب ہوگئی۔اس کامیابی نے ہارورڈ یونیورسٹی میں تعلیم کے حصول کا موقع پیدا کیا۔
الھنوف نے بتایا کہ مجھے فوٹو گرافی کا بچپن سے شوق ہے اور میں نے کئی ماہر فوٹو گرافر خواتین کے ساتھ فوٹو گرافی کے کورسز کیے اور اس میدان میں بھی مہارت حاصل کی ہے۔