.

حرم مکی میں کبوتروں کے لیے دانے فروخت کرنے والا ننھا بچہ کیا بننا چاہتا ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

حرم مکی میں ایک پانچ سالہ بچہ کبوتروں کے لیے دانے اٹھائے پھرتا دیکھا جاتا ہے۔ یہ بچہ زائرین کو وہ دانے پیش کرتا ہے اور وہ انہیں خرید کے کبوتروں کو ڈال دیتے ہیں۔

اس ننھے 'تاجر' نے اپنا نام 'عناد' بتایا اور کہا کہ وہ روزانہ 8 گھنٹے حرم مکی میں موجود لوگوں کو کبوتروں کے دانے فروخت کرتا ہے۔ اس نے بتایا کہ وہ یہ کام اپنے والدین اور خاندان کی مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے کررہا ہے اور رزق ہلال کا بہترین ذریعہ ہے۔

سعودی اخبار 'سبق' کے نامہ نگار سے بات کرتے ہوئے عناد نے کہا کہ وہ روزانہ اجیاد کی سمت سے حرم مکی میں آتا ہے۔ اس کے پاس کبوتروں کے آگے ڈالنے والے اناج کے دانے ہوتے ہیں۔ زائرین بیت اللہ اجرو ثواب کی نیت سے اس سے یہ دانے خرید کرکے کبوتروں کو ڈال دیتے ہیں۔

ننھے عناد کو یہ بھی معلوم ہے کہ پرندوں کے آگے دانا دنکا ڈالنا کتے عظیم اجر اور ثواب کا کام ہے۔ اللہ تعالیٰ‌ کا فرمان ہے کہ 'وَأَحْسِنُوا إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ' بھلائی کرو، اللہ بھلائی کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ مسلم شریف کی ایک روایت ہے کہ اللہ کے رسول نے فرمایا کہ 'إن الله كتب الإحسان على كل شيء' اللہ نے ہر چیز پر حسن سلوک فرض کیا ہے۔

عناد نے اپنی بات سمیٹتے ہوئے کہا کہ اللہ نے اسے توفیق دی تو وہ ایک روز ایک بڑا تاجر بنے گا اور اپنے والدین کی زیادہ بہتر طریقے سے خدمت کرے گا۔