.

تبوک کے شاندار "ریتلے حسمی پہاڑوں" کے بارے میں تاریخ دان کیا کہتے ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے جنوبی مغربی علاقے میں ریتلے پہاڑوں کا قدرتی حسن صدیوں سے برقرار ہے۔ ازمنہ قدیم سے صحرا کے بیچوں بیچ کھڑے ان پہاڑوں شان وشوکت ان کے منفرد ارضیاتی پہلو میں پنہاں ہے۔ صحرا کے اندر اس حسمی پہاڑی علاقے کا موسم گرمیوں میں سخت گرم اور سردیوں میں سخت سرد ہوتا ہے۔ موسم سرما میں یہاں درجہ حرارت دس سے پچیس درجے سینٹی گریڈ کے درمیان رہتا ہے۔

تبوک شہر کے مغرب میں حسمی پہاڑ صحرا کی سیاحت کے شائقین کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ حسمی کے پہاڑوں میں کئی تاریخی نقوش موجود ہیں جو مقامی حسمی زبان کے علاوہ عربی رسم الخط میں بھی تحریر ہیں۔ تاریخی اعتبار سے حسمی کے علاقے میں نبطی تہذیب کا غلبہ رہا ہے تاہم بعد کے ادوار میں یہاں عرب تہذیب چھائی رہی۔ بلند و بالا ہیبت ناک پہاڑ قدیم زمانے میں حجاج اور تجارتی قافلوں کی گزرا گاہ رہے ہیں۔

مؤرخین کے مطابق ان پہاڑوں پر ثمودی دور کے نقوش کم سے کم 2600 برس پرانے ہیں۔ اس میں اسلام اور قبل از اسلام دور کی تحریریں بھی نمایاں طور پر دیکھی جا سکتی ہیں۔ ریتلے پہاڑوں کے چپے چپے پر ثمودی اور قدیم عربوں نے اپنے نقش ونگار بنا رکھے تھے۔ اس میں قدیم زمانے کے نقشوں میں استمال ہونے والی سطریں بھی نمایاں طور پر دیکھی جا سکتی ہیں۔

سعودی عرب میں اونچے لمبے پہاڑوں کے جمالیاتی حسن، ثقافت، تاریخی ورثہ اور صحرا میں اونٹوں کے قافلوں کے سفر کو کیمرے کی آنکھ سے نمایاں کرنے کے مشہور فوٹو گرافر محمد الشریف کہتے ہیں کہ "حسمی اپنے اندر بہت سی تحریریں اور نقوش سمیٹے ہوئے ہے جن سے اس علاقے کا تاریخی ورثہ نمایاں ہوتا ہے۔"

تاریخ اور عربی زبان کی ترقی سے متعلق تحقیق کاروں کے لیے یہ علاقہ ایک نعمت غیر مترکبہ سے کم نہیں۔ اسی مقام پر سب سے ہاشمی لہجے کے نام سے جانی والی عرب تحریریں سامنے آئیں جو نباطی لہجے سے ملتی جلتی تھیں۔یہ پہلی عرب تحریر ہے جس میں حروف کوفی رسم الخط کے اندر ایک دوسرے سے ملا کر لکھے جاتے ہیں اور ہاشمی حروف صفوی حروف سے مماثلت رکھتے ہیں۔ یہ علاقہ اپنی تاریخ اور محل وقوع کی وجہ سے ممتاز مقام رکھتا ہے کیونکہ یہاں پائی جانے والی تاریخ اور ورثہ سے جزiرہ نما عرب اور ہمشیہ زندہ رہنے والی زبان کے آثار ملتے ہیں۔

سعودی عرب کے محکمہ سیاحت نے 10 دسمبر 2020 سے مارچ 2021 تک موسم سرما سیاحتی سیزن شروع کر رکھا ہے۔ اس تشہیری مہم کے دوران حسمی کے پہاڑوں کی متعدد تصویریں دکھائی گئی ہیں۔