.

روبوٹ ٹکنالوجی میں مسلسل تیسرا عالمی مقابلہ جیتنے والا نو خیز سعودی سائنسدان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مکہ مکرمہ سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان نے مسلسل تین سال سے عالمی سطح پر 'ذہنی صلاحیت' کے مقابلے میں پہلے نمبر پر آنے کا ریکارڈ برقرار رکھا ہے۔

پندرہ سال عماد العمودی نے سنہ 2018ء اور 2019ء کے دوران ملائیشیا میں منعقد ہونے والے ذہنی حساب کے مقابلوں میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ اس کے بعد اس نے گذشتہ برس کرونا کے دنوں میں گھر میں اپنے وقت کا استعمال خود کار روبوٹ ڈیوائس بنا کر کیا۔

گذشتہ برس اس نے سبزیاں اور دیگر کھانے کی اشیا کو کاٹنے کا کام آسان بنانے کے لیے ایک روبوٹ تیار کیا۔ اس کے بعد اس نے اپنی یہ ایجاد عالمی مقابلے میں بھی پیش کی اور ذہنی صلاحیت کے مقابلے میں ایک بار پھر پہلی پوزیشن حاصل کی۔

عماد العمودی نے بتایا کہ اس نے گذشتہ برس اپنے بھائی معاذ کے ساتھ جنوبی کوریا میں ہونے والے ایک بین الاقوامی مقابلے میں حصہ لیا۔ اس مقابلے میں امیدواروں کو تین گروپوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔ ایک گروپ 12، دوسرا 13 اور تیسرا گروپ اس سے زائد عمر کے بچوں کے لیے تھا۔ ہم نے گھر میں رہتے ہوئے ایک ربورٹ تیار کیا جو اپنا کام کرنے میں اعلیٰ درجے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

عماد نے مزید کہا کہ میں واحد عرب طالب علم ہوں جس نے معیار اور انتہائی خوبصورت ڈیزائن کی بنا پر اس مقابلے میں اپنا نام آنر لسٹ 'بی' میں رکھا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں عماد العمودی نے کہا کہ میرے ساتھ اس مقابلے میں جاپان اور چین جیسے ممالک کے انتہائی با صلاحیت ایسے طلبا بھی تھے جن کی عمریں 20 سال کے لگ بھگ تھیں۔ روبوٹ ٹیکنالوجی میں ان ممالک کے طلبا کو پیچھے چھوڑنا ایک بڑا اعزاز ہے۔