.

مسجد نبوی کی محرابیں: سجاوٹ اور خوبصورتی کے بے مثال نمونے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مسجد نبوی شریفﷺ کی محرابیں جمالیاتی ذوق اور تہذیبی فن تعمیر کے منفرد نمونے ہیں۔ مسجد نبویﷺ آنے والے زائرین ان محرابوں کی شاندار سجاوٹ، خوبصورت تحریوں اور فن تعمیر کے ممتاز ڈیزاین کو دیکھ کر انگشت بہ دندان رہ جاتے ہیں۔

مسجد نبویﷺ کے اندر محراب نبوی 888 سن عیسوی میں سلطان قايتبای کے دور میں تعمیر کی گئی۔ اس محراب کی خادم الحرمین الشریفین شاہ فھد بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے دور 1404هـ میں بڑے پیمانے پر تعمیر ومرمت کا کا سرانجام دیا گیا کیونکہ اس کا سنگ مرمر اور موزیک بری طرح ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکا تھا۔

محراب تھجد رسول اللہ ۔ عليه أفضل الصلاة والسلام ۔ کے جائے نماز کے باہر شمالی کھڑکی کے قریب واقع ہے۔ یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ محراب تھجد 643 هـ کو وفات ابن النجار کے عھد میں موجود تھی۔ اس محراب میں قايتباي اور پھر المجیدیہ طرز تعمیر کے اندر تجدید کی گئی۔ انھوں نے سرخ پتھر کے ایک ٹکڑے پر آیات تھجد لکھوا کر اس پر سونے کا پانی چڑھوایا۔ یہ محراب آج بھی موجود ہے، تاہم یہ مصحف کے لیے مخصوص ریک تلے چھپ گئی ہے۔

محراب ’’فاطمہ‘‘ نبی کریم ﷺ کی جائے نماز کے اندر واقع ہے۔ یہ محراب ایک خالی ستون پر مملوکی دور میں تعمیر کی گئی اور اس کی شکل محراب بنی صلی اللہ علیہ وسلم سے ملتی جلتی ہے۔ محراب عثمانی مسجد نبویﷺ کی قبلہ سمت دیوار میں بنائی گئی اور حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہاں مسلمانوں کی امامت کا فریضہ انجام دیتے تھے۔

مسجد نبویﷺ کی توسیع کے بعد الولید بن عبدالملک نے (91هـ) میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی جائے نماز پر ایک محراب تعمیر کر دی کیونکہ حضرت عثمان رضي الله کے دور میں محرابیں نہیں تھیں، پھر سلطان قايتباي نے (888هـ) کو اس میں موجودہ حد تک وسعت متعارف کرائی۔

ان کے علاوہ مسجد میں محراب سلیمانی بھی اپنی مثال آپ ہے۔ یہ منبر رسولﷺ کے تیسرے ستون کے پاس محراب نبی کی دائیں جانب واقع ہے۔ نویں صدی ہجری کے اواخر میں اسے طوغان شیخ نے 860ھ میں تعمیر کرویا اور اس میں محمد بن ابراہیم بن احمد الحنفی نامی حنفی امام مقرر کیا، اس نسبت سے اسے الحنفی محراب کہا جاتا ہے۔ بعد ازاں (948هـ) میں اسے سلطان سلیمان خان المعروف القانونی نے از سر نو بنوایا۔ اس میں سفید اور سیاہ سنگ مرمر لگوائے، جس کے بعد اس کا نام محراب سلیمانی مشہور ہو گیا۔