.

بزرگ سعودی شہری کا انوکھا مشغلہ، گھر کو پرندوں کی پناہ گاہ بنا لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے مشرقی علاقے الاحسا کے ایک متحرک بزرگ نے ملازمت سے ریٹائرمنٹ کے بعد ایک دلچسپ مشغلہ اختیار کیا جو اس کے لیے ایک اچھا خاصہ پیشہ بھی بن گیا۔

ستر سالہ سعودی شہری حسن المسبح جو اپنے خاندان میں 'ابو انور' کی کنیت سے مشہور ہیں نے 22 سال قبل اپنے گھر میں مختلف انواع کے پرندے پالنا شروع کیے۔ اس کا کہنا ہے کہ ملازمت سے ریٹائرمنٹ کے بعد میرے پاس فارغ وقت گذارنے کے لیے کوئی مصروفیت نہیں تھی۔ میں نے اپنے گھر کے ایک حصے کو پرندوں کے مسکن میں تبدیل کر دیا۔

العربیہ ڈاٹ‌ نیٹ سے بات کرتے ہوئے ابو انور کا کہنا تھا کہ میں نے الاحسا گورنری کے اندر اور باہر سے اب تک 200 اقسام کے پرندے اپنے گھر میں قائم پرندوں کی پناہ گاہ میں محفوظ کررکھی ہے۔ ان میں بعض نایاب پرندے بھی شامل ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں‌ابو انور کا کہنا تھا کہ محکمہ زراعت کی ملازمت سے ریٹئرمنٹ کے بعد میں خود کو مصروف رکھنا چاہتا تھا۔ ایک روز میں‌اپنے گھر کے باہر بیٹھا تھا۔ مجھے پرندوں کو دیکھ کر یہ خیال آیا کہ کیوں نا میں اپنے گھر میں پرندے جمع کرنا شروع کردوں۔ میں نے اس پناہ گاہ میں کھجور کے درخت بھی لگا دیے۔ میں یکے بعد دیگرے پرندوں کو اس میں‌لا کر ان کی پرورش کرتا رہا۔ میں‌نے محسوس کیا کہ یہ بہت مفید اور دلچسپ کام ہے۔

ایک دوسرے سوال کے جواب میں ابو انور کا کہنا تھا کہ پرندوں کے لیے قائم کردہ گھر میں موسم کے مطابق انہیں ماحول فراہم کیا جاتا ہے۔ گرمیوں میں پرندوں کو گرمی سے بچانے کے لیے ماحول کو ٹھنڈہ رکھنے والے آلات لگائے جاتے ہیں اور سردیوں میں پرندوں کو گرم رکھنے کا بھرپور اہتمام کیا جاتا ہے۔

سعودی شہری نے بتایا کہ ان پرندوں کی دیکھ بحال میں‌ خود کرتا ہوں اور اپنا زیادہ وقت انہیں دیتا ہوں۔ چند روز قبل میں الظہران میں کرونا کی ویکسین لگوانے گیا اور ویکسین لگواتے ہی فورا واپس گھر لوٹا۔

المسبح کا کہنا تھا کہ پرندوں کی اس پناہ گاہ کے چرچے دور دور تک پہنچ چکے ہیں اور لوگ پرندوں کو دیکھنے اور میرے تجربات سے سیکھنے کے لیے مجھ سے ملنے آتے ہیں۔