.

قدیم اسلامی فن کو زندہ رکھنے کے لیے سرگرم سعودی نوجوان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تانبے کی چادریں، چھینی اور ہتھوڑی کی آوازیں اور کالی گیس کا جلتا ہوا شعلہ ... یہ وہ ماحول ہے جس کے بیچ سعودی نوجوان حسین العویشی اپنے شوق میں مصروف نظر آتا ہے۔ العویشی نے اسلامی نقوش و نگار کو اپنے ذہن کی جدت کے ساتھ پیش کرنے کا بیڑہ اٹھایا ہوا ہے۔

حسین العویشی قدیم عمارتوں ، مساجد اور تاریخی محلوں میں موجود نقش و نگار سے بہت زیادہ متاثر ہے۔ وہ اس فن میں اپنے شوق کو پورا کرنے کے لیے تانبے کی تمام اقسام کا استعمال کرتا ہے۔ ان میں سرخ، سفید اور زرد تانبا شامل ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے سعودی عرب کے علاقے الاحساء سے تعلق رکھنے والے نوجوان سے خصوصی بات چیت کی۔ حسین العویشی نے مالی مشکلات اور دیگر مسائل کے باوجود بچپن سے ہی اس فن سے پیار کیا۔ انہوں نے یہ فن مملکت سے باہر گزارے گئے مختصر عرصے کے دوران سیکھا تھا۔

العویشی کہتے ہیں "اس نوعیت کا فن انسان کے لیے خطرے سے خالی نہیں ہوتا ، اس لیے کہ کام میں ہتھوڑی، چھینی اور کالی گیس پر انحصار کرنا پڑتا ہے جو تانبے پر نقش و نگار کو آسان بناتی ہے۔ تاہم اس کے خطرات کے باوجود میں اس فن کے ساتھ مضبوطی کے ساتھ جڑا ہوں"۔

العویشی کے مطابق دستی فن و حرفت الاحساء کے علاقے میں کوئی نئی چیز نہیں۔ سال 2015ء میں یونیسکو نے اسے دستی صنعت و حرفت اور عوامی فنون کے شعبے میں جدت طراز شہروں سے متعلق اپنی فہرست میں شامل کیا تھا۔ الاحساء میں یہ فن سیکڑوں برس پرانا ہے۔

حسین العویشی کہتے ہیں کہ انہوں نے 11 نوجوانوں کو اس فن سے متعلق تربیتی کورسز کرا چکے ہیں۔ العویشی نے علاقے میں فن پاروں کی متعدد نمائشوں میں بھی شرکت کی۔ ایک قدیم عرب اور اسلامی فن ہونے کے ناطے وہ اسے برقرار اور محفوظ رکھنا چاہتے ہیں۔