.

’’میں خاموش نہیں رہوں گی‘‘:کویتی خواتین کی ہراسیت کے خلاف ’می ٹو تحریک‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کویت میں خواتین جنسی ہراسیت کے بڑھتے ہوئے واقعات کی روک تھام کے لیے میدان میں اُترآئی ہیں اور انھوں نے ملک میں جنسی ہراسیت کے انسداد کے لیے ’می ٹو‘عالمی تحریک سے مشابہ تحریک شروع کی ہے۔

اس تحریک کی محرک خواتین نے ملک سے جنسی ہراسیت کے واقعات کی روک تھام اور اس ضمن میں نئے قوانین متعارف کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔

انھوں نے ’’لن اسکت‘‘(میں خاموش نہیں رہوں گی) کے نام سے سوشل میڈیا پر ایک ہیش ٹیگ شروع کیا ہے۔اس کے تحت انھوں نے کویت میں شاپنگ مالوں ، گراسری اسٹوروں یا عام شاہراہوں پر جنسی ہراسیت کے پیش آنے والے بہت سے واقعات بیان کیے ہیں۔

یہ مہم سب سے پہلے کویتی بلاگر آسیہ الفرج نے شروع کی تھی اور انھوں نے اپنے ساتھ پیش آنے والے جنسی ہراسیت کے واقعات کو بیان کیا تھا۔انھوں نے سنیپ چیٹ پر ایک ویڈیو پوسٹ کی۔اس میں انھیں یہ کہتے ہوئے سناجاسکتا ہے:’’میں جب کبھی گھر سے باہر نکلتی تو کوئی نہ کوئی مجھے یا کسی اور خاتون کو شاہراہ پر ہراساں کررہا ہوتا۔کیا آپ کو اس پر شرم نہیں آتی؟‘‘

کویت ایسے ملک میں، جہاں ہراسیت کے خلاف کھلے عام بولنا معیوب سمجھا جاتا ہے،اس تحریک نے بہت جلد ہرکسی کی توجہ حاصل کر لی ہے۔اب عام کویتی شہری ،اس خلیجی ریاست میں رہنے والے تارکین وطن ، قدامت پسند خواتین اور زیادہ آزاد خیال یا لبرل خواتین بھی اس موضوع پر بات کررہی ہیں۔

انسٹاگرام پر’لن اسکت‘ صفحہ کی بانی ڈاکٹر شیما شمو نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ’’یہ تحریک کویت میں ہرفرد کے لیے ہے۔ہمارے ساتھ جو کچھ ناانصافی ہورہی ہے،اس پر اب ہم خاموش رہنے والے نہیں۔‘‘

’لن اسکت‘اکاؤنٹ کو جنسی ہراسیت کا سامنا کرنے والی خواتین کے تجربات کے تبادلے کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔اس صفحہ کو صرف دو ہفتے قبل شروع کیا گیا تھا اور اب اس کے11 ہزار فالوورز (پیروکار) ہوچکے ہیں۔اس تحریک کو مقامی کاروباری شخصیات ،پارلیمان کے ارکان اور امریکی سفارت خانے کی حمایت بھی حاصل ہوچکی ہے۔

جنسی ہراسیت کی کہانیاں

ڈاکٹرشیما اپنی ٹیم کے ساتھ اس صفحہ پر بیان کی جانے والی کہانیوں کی تصدیق اور ترجمہ کا کام بھی کررہی ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ جو خواتین آگے آئی ہیں،ان میں سے 50 فی صد کو 18 سال سے کم عمری میں جنسی ہراسیت کے تجربے سے گزرنا پڑا تھا،20 فی صد کو ایک سے 12 سال کی عمر تک جنسی طورپر ہراساں کیا جاچکا تھا۔

ڈاکٹر شیما اس وقت وکلاء ، ڈویلپروں اور کارکنان کی ایک ٹیم کے ساتھ مل کرایک موبائل ایپلی کیشن کی تیاری پرکام کررہی ہیں۔اس کے ذریعے جنسی ہراسیت کا شکار ہونے والی خواتین خود سے پیش آنے واقعات کی پولیس کو محفوظ طریقے سے اطلاع دے سکیں گی تاکہ ان کے کیسوں کو قانون کے مطابق نمٹایا جاسکے۔

کویتی کارکن اور ڈیزائنر نجیبہ حیات نے العربیہ کو بتایا کہ’’ ان کی اس تحریک کا مقصد کویتی قوانین میں اس انداز میں ترامیم کرانا ہے کہ جو خواتین سامنے آئیں اور کیسوں کو رپورٹ کریں، انھیں قانونی تحفظ مہیا کیا جائے۔اس کے علاوہ کویتی معاشرے میں جنسی ہراسیت سے متعلق واقعات کے بارے میں سوچ کو بھی تبدیل کرنا ہے۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ ’’حقیقی تبدیلی تو تب رونما ہوگی جب لوگ جنسی ہراسیت کے واقعات کے بارے میں عام گفتگو کریں گے اور ان سے نازیبا سلوک کرنے والے اوباش مردوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔دراصل کویت میں ہراسیت ایک سماجی مسئلہ ہے اور ہمیں اس کے مکمل استیصال کی ضرورت ہے۔‘‘

کویت میں خواتین سے عوامی مقامات پر نازیبا سلوک کے خاتمے سے متعلق پارلیمان کے رکن عبدالعزیز السکوبی نے ایک مجوزہ قانون کا مسودہ بھی ایوان میں پیش کیا ہے،اس کے مطابق کسی خاتون سے جنسی ہراسیت کے مرتکب شخص کو قصوروار ثابت ہونے کی صورت میں ایک سال تک قید اور تین ہزار تک کویتی دینار (36428 ڈالر) کی سزا سنائی جاسکے گی یا ان میں سے کوئی ایک سزا سنائی جاسکتی ہے۔

واضح رہے کہ کویت میں اس وقت جنسی ہراسیت کے امتناع سے متعلق کوئی قانون نافذالعمل نہیں ہے اور نہ اس جرم کے مرتکبین کے خلاف کسی اور قانون کے تحت کارروائی کی جاتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ ایسے مجرم قانون کی پکڑ ہی میں نہیں آتے ہیں۔