.

دبئی میں روبوٹ کیفے نے کووِڈ-19 کی وَبا کے ماحول میں کیا تبدیل کردیا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عرب شہروں میں دبئی کو کئی ایک جدّتیں متعارف کرانے کا امتیاز حاصل ہے۔اب کہ کرونا وائرس کی وبا کے تناظر میں سماجی فاصلے کے ضابطے کی پاسداری کے لیے دبئی میں کھانے پینے کی جگہ کا ایک متبادل حل پیش کیا گیا ہے اور وہ روبوکیفے ہے۔

جی ہاں! کووِڈ-19 کو پھیلنے سے روکنے کے لیے متحدہ عرب امارات میں سماجی فاصلے کی پابندی پر سختی سے عمل درآمد کرایا جارہا ہے۔کیفےاور ریستورانوں میں کام کرنے اور آنے والے لوگوں کی تعداد گھٹا دی گئی ہے مگر ایک کیفے ایسا بھی ہے جہاں انسان نہیں،روبوٹ کام کرتے ہیں۔

صارفین اس روبو کیفے میں جرمن ساختہ روبوٹس کو اپنے کھانے پینے کی اشیاء کا آرڈر دیتے ہیں اور وہ ان کی مطلوبہ اشیاء کو تیار کرکے ان کی میزوں پر پہنچا دیتے ہیں۔

روبو کیفے کے ایک اماراتی صارف جمال علی حسن کا کہنا ہے کہ ’’یہ ایک اچھا آئیڈیا ہے۔ریستورانوں میں لوگوں کی آمدورفت کم ہوگئی تھی،اس لیے میں یہ توقع کررہا تھا کہ یہ آئیڈیا مقبول ہوسکتا ہے۔اس کیفے میں آپ آن لائن آرڈر کرتے ہیں،روبوٹ آپ کے سامنے کام کرتا ہے اور چند ہی منٹ میں آپ کی مطلوبہ شے تیار کرکے آپ کے سامنے رکھ دیتا ہے۔‘‘

دبئی میں یہ روبو کیفے دوسال سے زیادہ عرصے سے کام کررہا تھا۔اس کا افتتاح مارچ 2020ء میں ہونا تھا مگر اس میں کرونا وائرس کی وَبا کی وجہ سے تاخیرکردی گئی تھی۔پھر یواے ای میں کرونا وائرس کے تعلق سے عاید کردہ پابندیوں میں نرمی کے بعد اس کو گذشتہ سال جون میں کھول دیا گیا تھا۔

روبو کیفے دبئی حکومت کے مصنوعی ذہانت اقدام کی معاونت سے قائم کیا گیا تھا۔اس میں بیشتر کام روبوٹ ہی انجام دیتے ہیں اور کسی رکاوٹ کی صورت میں ملازمین کو بلایا جاتا ہے یا ان سے کیفے کے فرش کی صفائی کا کام کرایا جاتا ہے۔

اس کیفے کے ایگزیکٹوڈائریکٹرراشد عیسیٰ لوطہ بتاتے ہیں کہ ’’صارفین سکرین کے ذریعے اپنا آرڈر دیتے ہیں۔اس کے بعد ہر کام مصنوعی ذہانت کے تحت ہوتا ہے۔روبوٹ آرڈروں کو ان کی میز کے مطابق چھانٹ کر الگ الگ کرتے ہیں۔پھر انھیں ایک چھوٹی سروس باٹ میں رکھ دیتے ہیں اور وہ انھیں صارف تک پہنچا آتی ہے۔

جرمن ساختہ روبوٹس مشروبات تیار کرتے ہیں جبکہ مکمل طورپر خودمختار ڈلیوری باٹس یو اے ای میں ڈیزائن اور تیار کیے گئے ہیں۔