.

لاہورچڑیا گھرمیں سفید شیرکے دوبچّوں کی کووِڈ-19 سے موت کی تصدیق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے دوسرے بڑے شہر لاہور کے معروف چڑیا گھر میں سفید شیر کے مرنے والے دو بچّوں کے بارے میں حکام کا کہنا ہے کہ بظاہر ان کی موت کووِڈ-19 سے ہوئی تھی۔

شیر کے ان دونوں بچّوں کی عمر گیارہ ہفتے تھے اور وہ 30 جنوری کو لاہور چڑیا گھر میں دم توڑ گئے تھے۔اس سے چار روز پہلے 26 جنوری کو ان میں پین لیوکوپینیا نامی وائرس کی تصدیق ہوئی تھی۔چڑیا گھر کے حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان میں یہ بیماری عام ہے اور (شیر کی خالہ) بلّی کے مدافعتی نظام کو ہدف بناتی ہے۔

ان دونوں بچوں کا پوسٹ مارٹم کیا گیا تھا۔اس سے یہ پتا چلا تھا کہ ان کے پھیپھڑے ختم ہوچکے تھے۔ماہر پیتھالوجسٹوں کے مطابق وہ انفیکشن سے بُری طرح متاثرہوئے تھے اور ان کی موت کووِڈ-19 کی وجہ سے ہوئی تھی۔

تاہم ان دونوں کا کروناوائرس کا پی سی آر ٹیسٹ نہیں کیا گیا تھا۔چڑیا گھر کی ڈپٹی ڈائریکٹر کرن سلیم نے صحافیوں کو بتایا ہے:’’انتظامیہ کو یہ یقین ہے کہ شیر کے دونوں بچّے کرونا وائرس کی وَبا کا شکار ہوئے ہیں۔‘‘

انھوں نے مزید بتایا ہے کہ ’’ان کی موت کے بعد چڑیا گھر کی انتظامیہ نے تمام ملازمین کے کرونا وائرس کے ٹیسٹ کیے ہیں۔ان میں سے چھے کے ٹیسٹوں کا نتیجہ مثبت آیا ہے۔ان ہی میں سے ایک متاثرہ ملازم شیر کے ان دونوں بچّوں کی دیکھ بھال کررہا تھا۔اس سے پوسٹ مارٹم کی اس رپورٹ کی بھی توثیق ہوئی ہے کہ جو شخص ان کی دیکھ بھال کررہا تھا،انھیں خوراک دے رہا تھا،اسی سے یہ وائرس کا شکار ہوئے تھے۔‘‘

واضح رہے کہ پاکستان میں چڑیا گھروں میں انتظامیہ کی جانوروں سے غیرانسانی سلوک اور ان کی مناسب طریقے سے دیکھ بھال نہ کرنے کی خبریں آئے دن میڈیا کی زینت بنتی رہتی ہیں۔

جانوروں کے تحفظِ حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں اور کارکنان کا کہنا ہے کہ سفید شیرایک بالکل نایاب نسل ہے اور اس کو صحت مند طریقے سے زندہ رکھنے کے لیے ایک مخصوص ماحول کی ضرورت ہے لیکن چڑیا گھرمیں انھیں پنجروں میں غیرصحت مند ماحول میں بند کرکے رکھا جاتا ہے۔اگر اس تمام صورت حال کی اصلاح نہیں کی جاتی ہے تو اس طرح نایاب جنگلی جانوروں کے مرنے کی خبریں سامنے آتی رہیں گی۔