.

السروات پہاڑیوں کی ڈھلانوں میں صحراء بارش میں سبزہ زار کیسے بنا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مکہ معظمہ میں القنفذہ گورنری کے جنوبی علاقے میں 'حلی' مرکز اور اس کے اطراف میں ہونے والی بارش نے علاقے کا رنگ ڈھنگ بدل کر رکھ دیا۔ بارش کے باعث جبال سروات کے نشیبی صحرا کو بھی ترو تازہ نخلستان میں بدل ڈالا جس کے باعث اس کے قدرتی مناظر مزید کھل اٹھے۔ مناظر فطرت کے شوقین لوگوں نے ان مناظر کو 'نایاب' قرار دیا ہے۔

سعودی عرب کے ایک مقامی فوٹو گرافر خالد ابو منصور جو عموما بارشوں کے آثار کے مناظر کو یادگار فوٹوز کی شکل میں محفوظ کرتے ہیں نے حلی مرکز میں ہونے والی بارش اور اس کے بعد کے مناظر کو بھی کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ بارش نے صحرا کی زمین کو سرسبز بنا دیا۔ اس سبزے کی وجہ سے اونٹ چرانے والے شہری اپنے اونٹوں کے ریوڑ یہاں لاتے، مویشیوں‌کے پلیٹ بھرتے اور خوبصورت فضا سے لطف اندوز ہوتےہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے خالد ابو منصور نے کہا کہ 'حلی' القنفذہ گورنری کا ایک نشینی اور ہموار علاقہ ہے۔ اس کے اطراف میں بلند پہاڑی چوٹیاں ہیں جو مشرقی حصے میں پھیلی ہوئی ہیں۔ حلی کے مغرب میں بڑے بڑے تالاب ہیں۔ یہ علاقہ ایک طرف تہامہ کی پہاڑی چوٹیوں کے ساتھ مربوط ہے اور دوسری طرف جبال سروات سے منسلک ہے۔ شہر کو شمالی اور جنوبی دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ تاہم ان دونوں علاقوں کو مجموعی طور پر 'وادی حلی' کہا جاتا ہے۔

وادی حلی میں موجود ڈیم پانی محفوظ کرنے کا ایک بڑا سرکاری منصوبہ ہے۔ اپنے حجم اور پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش کے اعتبارسے اس ڈیم کا شمار سعودی عرب کے بڑے ڈیموں میں‌ ہوتا ہے۔ اس کی اونچائی 87 میٹر اور پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش 250 ملین مکعب میٹر ہے اور یہ مملکت کا دوسرا بڑا ڈیم ہے۔

وادی حلی جزیرۃ العرب کی بڑی وادی ہے۔ اس کی لمبائی 145 کلو میٹر ہے۔ یہ وادی بارشوں اور چشموں کی وجہ سے بھی شہرت رکھتی ہے اور دور دور سے لوگ اس کی سیاحت کے لیے آتے ہیں۔