.

میرے والد اور شوہر کے اختلافات انتہائی سنگین تھے: رغد صدام حسین

’’میں اگر عراق سے نہ نکلتی تو دونوں کے درمیان خون کی ندیاں بہہ جاتیں‘‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے مصلوب صدر صدام حسین کی صاحب زادی رغد صدام حسین نے 'العربیہ' نیوز چینل کو دیے گئے انٹرویو کے دوسرے حصے میں میں اپنے شوہر حسین کامل کے قتل میں صدام حسین سمیت اپنے خاندان کے کسی بھی فرد کے ملوث ہونے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ حسین کو قبائلی سرداروں کے ایما پر فنا کے گھاٹ اتارا گیا۔

منگل کی شب نشر ہونے والی قسط میں رغد صدام نے عراق۔ایران جنگ اور حسین کامل سے اپنی شادی کے بارے میں تفصیلات بیان کیں۔ انہوں‌ نے بتایا کہ وہ کیسے حالات تھے جب ان کے والد نے پندرہ سال کی عمر میں ان کی شادی خود سے کئی سال بڑے حسین کامل سے کرا دی؟ ان کا کہنا تھا کہ کم سنی کی شادی کے باجود میں نے شوہر کی رضامندی کے بغیر اپنی تعلیم جاری رکھی۔ نیز انھوں نے بتایا کہ حسین کامل کیسے عراق کی دوسری طاقت ور شخصیت بن گئے تھے؟۔

انھوں بتایا کہ میرے شوہر اور والد صدام حسین کے درمیان اختلافات کی وجہ سے عراق چھوڑ کر اردن جانا پڑا۔ ’’میرے شوہر نے عراق سے جاتے وقت مجھ سے مشورہ کیا۔ مجھے احساس ہو گیا تھا کہ میں اگر عراق میں رہی تو میرے شوہر اور والد کے درمیان خون کی ندیاں بہہ نکلیں گی۔

ان کے بقول وہ نہیں جانتی تھیں کہ ان کے شوہر 1995 میں اردن جا کر نیوز کانفرنس میں کیا اعلان کرنے والے ہیں۔ ’’مجھے اپنے شوہر کے بیانات پر بہت غصہ آیا اور میں ان نے اس بات پر خوب لڑی۔‘‘

رغد نے مزید بتایا کہ ان حالات میں میں نے بچوں کے بغیر عراق واپس آنے کا فیصلہ کیا۔ میں اپنے والد کے پاس لوٹنے کے لیے گھر بار اور بچے چھوڑنے پر تیار تھی۔

شوہر کی عراق واپسی سے متعلق سوال پر رغد نے بتایا کہ میں نے انہیں عراق لوٹنے پر مجبور نہیں کیا۔ وہ عراق کی محبت اور دوسرے چند معاملات کی وجہ سے عراق لوٹے۔‘‘

انٹرویو کے دوران انہیں اپنے شوہر سے طلاق جیسے حساس عائلی معاملے پر بھی کھل کر اظہار خیال کیا۔ انھوں نے بتایا کہ شوہر سے طلاق میرے لیے غیر متوقع نہیں تھی کیونکہ حالات جس نہج پر پہنچ چکے تھے، اس میں یہی ہونا تھا۔

انھوں نے اپنے شوہر کی ٹارگٹگ کلنگ کی کارروائی اور اس میں ان کے بھائی عضی اور اپنے والد صدام حسین کے کردار پر بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ میرے شوہر کے قتل کا فیصلہ ’’قبائلی سرداروں کا تھا اس میں میرے خاندان کے کسی فرد کو کوئی کردار نہ تھا۔

عراق کی تقسیم یا اسے فیڈرل ریاست بنانے کے بارے میں رغد صدام نے تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ میرا ملک اس مقام تک بھی پہنچ سکتا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں رغد صدام نے کہا کہ عراق کی تقسیم اس وقت سیاسی اکھاڑے کا اہم آپشن بن چکا ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ میں نے ہمیشہ عراق کو متحد رکھنے پور زور دیا۔