.

’عجائب گھر کے لیے نوادر جمع کرنے میں نصف صدی بیت گئی‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی شہری ابراہیم الماجد روضۃ السدیر میں نصف صدی سے تاریخی نوادر جمع کر رہے ہیں۔ نجد کے قدیم طرز کا عجائب گھر قائم کیا ہے جو چھ ہزار نوادر سے آراستہ ہے۔

العربیہ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے ابراہیم الماجد نے بتایا کہ عجائب گھر کو ’متحف بیت الماجد‘ (ماجد ہاؤس میوزیم) کا نام دیا ہے۔

سعودی شہری کا کہنا ہے کہ تاریخی نوادر جمع کرنے کا اس کا شوق بڑا پرانا ہے۔ نصف صدی کا قصہ ہے۔ خواہش ہے کہ نئی نسلیں نوادر کے ذریعے آباؤ اجداد کے طرز معاشرت سے واقف ہوں۔

Half a century has passed since the collection of antiquities for the museum.

ابراہیم الماجد نے کہا کہ عجائب گھر روضۃ السدیر میں کھولا گیا اور اسے نجد کے قدیم طرز کے مطابق تعمیر کیا گیا ہے۔ یہاں چھ ہزار نوادر سجائے گئے ہیں۔ ان میں ایک قطعہ ڈھائی سو برس پرانا ہے۔ یہاں نایاب قدیم سکے ہیں۔

سعودی عرب کے مختلف علاقوں میں پہنی جانے والی پوشاکیں ہیں- الیکٹرانک آلات مثلا ٹیپ ریکارڈر، ٹیلیفون، گیس اور کوئلے سے چلنے والی استری اور بہت سارے ریکارڈر ہیں۔

انہوں نے نجد کے گھرانوں میں استعمال ہونے والے قدیم برتن، تلواریں، نیزے، خنجر بڑی تعداد میں جمع کیے ہیں۔ ایئر گن سمیت مختلف قسم کی بندوقیں ہیں۔

Half a century has passed since the collection of antiquities for the museum.

ابراہیم الماجد نے بتایا کہ میوزیم میں موسیقی کے وہ آلات بھی ہیں جو پرانے زمانے میں استعمال ہوتے تھے مثلا ڈھول، ربابہ اور دیگر آلات موسیقی۔

اپنی گفتگو سمیٹتے ہوئے کہا کہ تاریخی عجائب گھر قدیم ورثے کے ریکارڈ، تلاش اور شناخت کا بڑا ذریعہ ہیں۔ خوش آئند امر یہ ہے کہ ہمارے یہاں مملکت میں محکمہ سیاحت ورثے سے دلچسپی رکھنے والے لوگوں کی سرپرستی کرنے لگا ہے۔