.

بیٹے کے قاتل کو معاف کرنے والی بزرگ خاتون سے گورنر عسیر کی ملاقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کےعلاقے عسیر کے گورنر شہزادہ ترکی بن طلال نے خمیس مشیط گورنری کے جنوب میں خیبر مرکز میں‌ اپنے بیٹے کے قاتل کو معاف کرنے والی بزرگ خاتون شیخہ المجیرین کے گھر میں جا کر اس سے ملاقات کی۔ عمر رسیدہ نورہ بنت عبداللہ العسیلہ الدحروجیہ جو اس کے علاقے میں شیخہ المجیرین کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔ شیخہ المجیرین کی پوری زندگی پڑوسیوں کی خدمت اور ان کے ساتھ حسن سلوک میں گذری۔

حال ہی میں عسیر کے گورنر شہزادہ ترکی بن طلال نے شیخہ المجیرین کے گھر میں جا کر خاتون کے حسن سلوک پر اس کی تحسین کی۔

جنوبی خیبر کے ایک قبائلی سردار فہد السریعی نے شیخہ المجیرین کی جانب سے بیٹے کے قاتل کو معاف کرنے کا قصہ شہزادہ ترکی بن طلال کو سنایا۔ وہ یہ واقعہ سن کر بہت متاثر ہوئے اور شیخہ المجیرین سے ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا۔

مقتول کے ایک بھائی نے بتایا کہ 16 ربیع الاول 1441ھ کو اس کے بھائی کا قاتل مغرب سے کچھ دیر قبل ہمارے گھر میں داخل ہوا اور سیدھا ہماری ماں کے سامنے پہنچ گیا۔ اس نے شیخہ المجیرین سے کہا کہ میں آپ کے سامنے پیش ہو گیا ہوں اور آپ کی آنکھوں کے سامنے ہوں۔ اس پر میری ماں کھڑی ہوئی اور کہا کہ میرے سامنے میرے مقتول بیٹے کے بھائی ہیں۔ آپ کے ظلم کو میں انصاف پسند ریاست کے عدل اور اللہ پر چھوڑتی ہوں۔

عبداللہ نے بتایا کہ ماں نے قاتل کو کہا کہ تم نے جو زیادتی کی وہ تمہاری گردن پر ہے۔ 80 سال میں ہمارے خاندان کی مقدر میں ایسا ہونا تھا۔ ہم سب بہن بھائیوں اور مقتول کی بیوہ نے ماں کی بات پر رضامندی ظاہر کی۔ شہزادہ ترکی بن طلال کسی پیشگی اطلاع یا تیاری کے بغیر ہی خاتون کے گھر پہنچ گئے۔ اس موقعے پر سعید بن عایض نے اس ملاقات کی ایک فوٹیج بنائی جسے سوشل میڈیا پر پوسٹ کیا گیا۔